حکومت کے پاس لیوی برقرار رکھنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں، لیاقت بلوچ


اسلام آباد: (بیورورپورٹ)قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ دونوں فریقوں نے پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ناگزیر قرار دیا ہے، جبکہ زرعی شعبے اور 1000 سی سی گاڑیوں کو ریلیف دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

وزارت خارجہ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات کے تناظر میں ہوا۔ یہ مذاکرات کا حتمی راونڈ تھا، جس میں چار بنیادی نکات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

قبل ازیں جماعت اسلامی اور حکومت کے مذاکرات ہوئے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر احسن اقبال اور رانا ثنااللہ شامل تھے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ اور انجینئر نصراللہ رندھاوا نے مذاکرات میں شرکت کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے بعض ریلیف اقدامات کیے ہیں، تاہم حکمران اپنی مراعات چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئل ریفائنریوں کو بے تحاشا منافع کمانے کے مواقع دیے گئے ہیں، حکومت کے پاس لیوی برقرار رکھنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں۔ان کے مطابق حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اعتراف کیا ہے کہ عوام کو ملنے والا ریلیف جماعت اسلامی کے ملک گیر احتجاج کا نتیجہ ہے۔ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ لیوی کے خاتمے کا جماعت اسلامی کا مطالبہ حقائق پر مبنی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں مذاکراتی ٹیمیں لیوی کے بتدریج خاتمے اور عوامی ریلیف کے لیے ورکنگ پیپر تیار کریں گی۔ حکومت آج اپنی ورکنگ مکمل کرے گی جبکہ کل دونوں اطراف کی ٹیمیں اس معاملے پر مزید پیشرفت کریں گی۔