لاہور(خبر نگار)لاہور کی حساس ترین شاہراہ مال روڈ پر ایچ کریم بخش کے ساتھ واقع سرکاری بینک کی عمارت پر ایک اور منزل تعمیر کر لی گئی مگر داتا گنج بخش زون انتظامیہ کو اس خلاف ورزی کی خبر تک نہ ہوئی یا پھر سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔ دوسری جانب مبینہ ”مینج پالیسی“ کے ذریعے غیرقانونی تعمیر کو تحفظ دینے کے الزامات نے انتظامیہ کے کردار کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ تعمیر کا انداز ایسا شاطرانہ ہے کہ باہر سے گزرنے والوں کو شک تک نہیں پڑتا۔ عمارت کے اگلے حصے کا کچھ رقبہ خالی چھوڑ کر اضافی فلور پچھلے حصے پر کھڑا کیا گیا ہے، سو سامنے سے نظر ڈالنے والے کو سب کچھ جوں کا توں دکھائی دیتا ہے اور پیچھے ایک پوری منزل سر اٹھائے کھڑی ہے۔ اس چالاکی نے دیکھنے والوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا ہے۔ یہ تعمیر راتوں رات مکمل نہیں ہوئی، دنوں پر پھیلے اس کام کے دوران اینٹ، سیمنٹ، سریا اور مزدور آتے جاتے رہے مگر اسکے باوجود قانون کی گرفت اس پر نہ پڑ سکی۔ سرکاری قواعد کی رو سے اس شاہراہ پر کسی بھی نوعیت کی تعمیر، مرمت یا ردوبدل کیلئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں قائم سپیشل کمیٹی کی پیشگی اور باقاعدہ منظوری قانوناً لازم ہے۔ اس شرط کا بنیادی مقصد شہر کے اس اہم ترین روڈ پر نظم و نسق اور سکیورٹی کے ضابطوں کو برقرار رکھنا ہے، مگر شعبہ پلاننگ داتا گنج بخش زون کی مبینہ غفلت اور ملی بھگت نے تمام احکامات اور ایس او پیز کو طاق پر رکھ دیا۔ حساس شاہراہ پر بلڈنگ بائی لاز کی اس کھلی خلاف ورزی نے اعلیٰ اختیاراتی سپیشل کمیٹی سمیت بلدیہ عظمیٰ کی پوری انتظامی مشینری کو صریحاً دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔ جس عمارت پر یہ غیر قانونی منزل اٹھائی گئی، وہ شہر کی سب سے زیادہ نگاہوں میں رہنے والی سڑک پر واقع ہے، جہاں روزانہ اعلیٰ شخصیات کا گزر ہوتا ہے۔ اس کے باوجود عملے کی خاموشی اور مبینہ جیب گرم کرنے کے کھیل نے سب کچھ آشکار کر دیا ہے۔ شہر کے اس پروٹوکول والے علاقے میں قانون کا یوں مذاق اڑایا جانا اور داتا گنج بخش زون کے نگرانوں کا اس مجرمانہ غفلت پر آنکھیں موند لینا اس امر کا غماز ہے کہ بلدیاتی قوانین چند عناصر کی ذاتی مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ انتظامیہ اس معاملے پر کیا پالیسی وضع کرتی ہے، یہ اسکے آئندہ فیصلوں اور کارروائی پر منحصر ہے۔
داتا گنج بخش زون، سرکاری بینک کی عمارت پر ایک منزل کی غیرقانونی تعمیر



















