پی ایچ اے، عدالتی پابندی کے باوجود مختلف پارکوں میں فوڈکورٹس بنانے کا کام جاری

لاہور (اپنے نمائندے سے) پی ایچ اے لاہور کی طرف سے عدالتی احکامات کو مبینہ طور پر نظر انداز کرنے کی روش، شہر کے مختلف پارکوں میں فوڈ کورٹس پر عدالتی پابندی کے باوجود کام جاری، پی ایچ اے نے ماحولیاتی کمیشن کو نظرانداز کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے پارکوں میں تجارتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی کے دو ٹوک احکامات کے باوجود لاہور کے بڑے عوامی پارکوں میں فوڈ کورٹس، کینٹینز اور ریسٹورنٹس کے منصوبے جاری ہیں، جبکہ عدالت کے مقرر کردہ ماحولیاتی کمیشن سے تاحال کوئی پیشگی منظوری نہ لینے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ 16 جنوری 2026 کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے تاریخی حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) لاہور کسی بھی عوامی پارک کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال یا کرائے پر نہیں دے سکتی۔ کسی بھی پارک میں کوئی بھی تجارتی سرگرمی عدالت کے مقرر کردہ ماحولیاتی کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکے گی۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ پی ایچ اے کی بنیادی ذمہ داری پارکوں کی حفاظت اور دیکھ بھال ہے، انہیں کمرشل ہب میں تبدیل کرنا نہیں عدالت نے پی ایچ اے سے کوئی عدالتی نظیر پیش کرنے کا بھی کہا تھا جو پارکوں میں ریسٹورنٹس کی اجازت دیتی ہو۔عدالت نے دو پارکوں کو اصل حالت میں بحال کر کے ماڈل پارک بنانے کا بھی حکم دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہرمیں دو سطحوں پر کام ہو رہا ہے وہ منصوبے جن پر عدالت نے خود نوٹس لیا تھا:ڈونگی گراو¿نڈ، گلبرگ: درخواست گزار کے وکیل کے مطابق یہاں مستقل ریسٹورنٹ قائم کر دیا گیا ہے۔جلو پارک، کینال روڈ: نہر کنارے فلوٹنگ ریسٹورنٹ کی تعمیر جاری تھی، جس پر جسٹس شاہد کریم نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔ب) وہ منصوبے جو نئے ڈیزائن کے تحت لاہور میں لگنے جا رہے ہیں۔ 9 اکتوبر 2026ءکو اعلیٰ سطحی اجلاس میں ”پی ایچ اے فوڈ کورٹس کے نئے یونیفارم ڈیزائن“کی باقاعدہ منظوری دی گئی جس میں 5 بڑے پارکوں کو ترجیحی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں گریٹر اقبال پارکباغ جناح (لارنس گارڈن)گلشن اقبال پارک، ماڈل ٹاو¿ن پارک، ریس کورس پارک جیل روڈ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان پارکوں میں ایک جیسے ڈیزائن، برانڈنگ اور مینو کے ساتھ فوڈ کورٹس لگانے کیلئےنجی کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے۔عدالتی حکم پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے:ماڈل پارک بحالی: عدالت نے دو پارکوں کو ماڈل بنانے کا کہا تھا، مگر پی ایچ اے نے اس کے برعکس دعویٰ کیا ہے کہ کیٹیگری سی کے تمام چھوٹے پارکس بحال کر دیے گئے ہیں" جو عدالتی حکم کی روح کے منافی ہے۔تجارتی ڈھانچے برقرار: ڈونگی گراو¿نڈ اور جلو پارک میں قائم تجارتی ڈھانچے آج تک مسمار یا پارک کی اصل حالت میں بحال نہیں کئے گئے۔ پی ایچ اے نے لاہور ہائیکورٹ کے واضح حکم کے باوجود تاحال کسی بھی فوڈ کورٹ منصوبے کیلئے ماحولیاتی کمیشن سے پیشگی تحریری منظوری حاصل نہ کرنے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ پی ایچ اے حکام کے مطابق پی ایچ اے ایکٹ انہیں ”عوامی سہولیات“فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے اور فوڈ کورٹ کمرشل سرگرمی نہیں بلکہ سہولت ہے۔