لاہور (میاںذیشان) صوبائی دارلحکومت لاہور میں انسداد رشوت ستانی کی ٹریپ ریڈز تیز، رواں ماہ لاہور ریجن اے اور بی میں ٹریپ ریڈز کے دوران 39 سرکاری ملازمین گرفتار کرلئے گئے۔ لاہور ریجن اے میں 19 جبکہ ریجن بی میں 20 سرکاری ملازمین کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا، جبکہ انکوائریوں میں بھی 27 ملازمین گرفتار ہوئے۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ کی زیرسرپرستی احسن منیر بھٹی کی قیادت میں جاری کریک ڈاﺅن کو کرپشن فری پنجاب مہم کے عملی نفاذ اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے سدباب کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب نے لاہور میں سرکاری اداروں کے اندر رشوت ستانی اور بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ٹریپ ریڈز کا سلسلہ تیز کردیا، لاہور ریجن اے اور بی میں ایک ماہ کے دوران مختلف صوبائی محکموں سے تعلق رکھنے والے 39 سرکاری ملازمین کو مبینہ طور پر رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا، جن میں لاہور ریجن اے کے 19 جبکہ ریجن بی کے 20 افسران و اہلکار شامل ہیں، جبکہ کرپشن سے متعلق انکوائریوں میں مزید 27 سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا گیا، یوں دونوں ریجنز میں ٹریپ ریڈز اور انکوائریوں کی بنیاد پر مجموعی طور پر 66 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے مختلف سرکاری محکموں میں شہریوں سے رشوت طلب کرنے اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے خلاف محکمہ انسداد بدعنوانی کی جانب سے شکایات کی جانچ پڑتال کے بعد کارروائیاں کی گئیں، ٹریپ ریڈ کے دوران ریجن اے میں 19 جبکہ ریجن بی میں 20 سرکاری ملازمین کو مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے موقع پر گرفتار کیا گیا، گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج کرکے تفتیش کا عمل شروع کیا گیا، جبکہ انکوائریوں میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر لاہور ریجن اے سے 13 اور ریجن بی سے 14 مزید سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا گیا۔ ٹریپ ریڈز میں مختلف صوبائی محکموں سے وابستہ افسران و اہلکار کارروائی کی زد میں آئے، جبکہ محکمہ مال کے پٹواریوں کے منشیوں اور مبینہ فرنٹ مینوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں، جن میں مبین اختر کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری اور پٹواری طارق کے مبینہ فرنٹ مین ماجد کے خلاف رشوت ستانی کے الزام میں کارروائی شامل ہے، اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ٹریپ ریڈ کا مقصد کسی سرکاری ملازم کو رشوت وصول کرتے ہوئے موقع پر گرفتار کرنا ہے اور اس نوعیت کی کارروائی میں مقدمہ درج کرنے اور گرفتاری کیلئے پیشگی اجازت کی شرط عائد نہیں ہوتی، تاہم گرفتاری کے بعد مقدمہ کی تفتیش، شواہد کا حصول، ملزم کا قانونی عمل اور عدالت میں چالان پیش کرنے کے مراحل مکمل کیے جاتے ہیں۔ لاہور میں جاری کارروائیوں کے دوران محکمہ مال سمیت مختلف صوبائی محکموں میں شہریوں سے مبینہ غیر قانونی وصولیوں کی شکایات کو خصوصی طور پر مانیٹر کیا جارہا ہے تاکہ رشوت ستانی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاسکے، اسی طرح انکوائریوں کے ذریعے سامنے آنے والے معاملات میں بھی متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں، جس کا مقصد نہ صرف بدعنوانی کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا بلکہ سرکاری دفاتر میں شہریوں کو بلاجواز مالی دباﺅ اور غیر قانونی مطالبات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کے قانونی طریقہ کار کے مطابق کسی بھی مقدمے میں گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جاتا ہے، الزام ثابت نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی مختلف مرحلے پر ختم ہوسکتی ہے جبکہ قابلِ اعتبار شواہد موجود ہونے کی صورت میں مقدمہ آگے بڑھاتے ہوئے عدالت میں چالان پیش کیا جاتا ہے، اسلئے ٹریپ ریڈ میں گرفتاری کو حتمی عدالتی سزا تصور نہیں کیا جاسکتا بلکہ جرم کے تعین اور قانونی انجام کا فیصلہ متعلقہ عدالت ہی کرتی ہے۔ لاہور ریجن اے اور ریجن بی کے ڈائریکٹر احسن منیر بھٹی کی نگرانی میں دونوں ریجنوں میں بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ کی زیرسرپرستی کرپشن کے خلاف جاری مہم میں لاہور ریجن کی ٹریپ ریڈز میں تیزی کو اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) محکمہ انسداد رشوت ستانی پنجاب کے ڈائریکٹر لاہور ریجن اے اور بی احسن منیر بھٹی نے روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے ریجنل سطح پر شکایات کی جانچ، ٹریپ ریڈز اور بدعنوان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو مربوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، کرپشن کے خلاف کارروائیوں کا بنیادی مقصد کسی مخصوص طبقے یا محکمے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ شکایت موصول ہونے پر شواہد کی بنیاد پر بدعنوانی میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی یقینی بنانا ہے، جبکہ لاہور اور گردو نواح میں جاری کریک ڈاﺅن کو کرپشن فری پنجاب مہم کے عملی نفاذ اور سرکاری محکموں میں رشوت ستانی کے سدباب کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے، ڈائریکٹر لاہور ریجن اے و بی احسن منیر بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ ٹریپ ریڈز اور انکوائریوں کی بنیاد پر ہونے والی گرفتاریوں نے محکمہ انسداد بدعنوانی کی کارروائیوں کو مزید متحرک کیا ہے، جبکہ ڈی جی سہیل ظفر چٹھہ کی پالیسی کے تحت کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس اور قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کے عزم کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، تا کہ پنجاب کرپشن فری سلوگن کو عملی طور پر نافذ کیا جائے تا کہ عوام الناس کو کرپشن کے ناسور سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔
انسداد رشوت ستانی کی ٹریپ ریڈز تیز، رواں ماہ لاہور ریجن اے اور بی میں 39 سرکاری ملازم گرفتار



















