معدہ، جگر انسانی جسم کے انتہائی اہم اعضاءہیں: ڈاکٹر رضا

لاہور (خصوصی انٹرویو: میاں ساجد/ تصاویر: میاں شاہ نواز)مسیحائی ایک نعمت ہے، دکھی انسانیت کا درد بانٹنا، مریضوں کی دکھتی رگوں پر مرہم رکھنا اور انسانیت کے چراغوں کو روشن کرنا میرے لئے محض پیشہ نہیں بلکہ ایک ایسا فرض ہے جس کی ادائیگی میں لمحہ بھر کی تاخیر بھی گوارا نہیں۔ والدین دنیا کا وہ عظیم اثاثہ ہیں جنہوں نے میری تربیت، رہنمائی اور کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کیا اور مجھے اس مقام تک پہنچایا جہاں آج میرا معاشرہ مجھ پر اعتماد کرتا ہے۔ میری کوشش ہے کہ مریض کو صرف بیماری سے نجات نہ ملے بلکہ اسے علاج کے دوران اعتماد، توجہ اور انسانیت کا احساس بھی حاصل ہو۔ان خیالات کا اظہار ماہر امراض معدہ و جگر، نظامِ انہضام، انٹرونشنل اینڈو سکوپسٹ اور آر سی پی سپیشلسٹ ڈاکٹر رضا سروسز ہسپتال لاہور نے روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ معدہ اور جگر انسانی جسم کے انتہائی اہم اعضاءہیں اور نظامِ انہضام میں خرابی براہِ راست انسان کی مجموعی صحت، روزمرہ زندگی اور کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ اس لئے معدے کی معمولی علامات کو بھی نظرانداز کرنے کے بجائے بروقت تشخیص اور مناسب علاج کو ترجیح دینی چاہیے۔ ڈاکٹر رضا نے کہا کہ سروسز ہسپتال لاہور صوبائی دارالحکومت کا ایک اہم طبی مرکز ہے جہاں مختلف شعبہ جات میں مریضوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے و یڑن کے مطابق مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کے ساتھ مفت ادویات کی فراہمی حکومت پنجاب کا قابلِ ذکر اقدام ہے۔ معدہ و جگر کے مریضوں کے لیے علیحدہ اور مخصوص طبی سہولیات کی دستیابی سے ایسے مریضوں کی تشخیص، علاج اور فالو اَپ میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید دور میں طب کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور جدید تشخیصی طریقہ کار نے علاج کے عمل کو مزید مو¿ثر بنا دیا ہے۔ اینڈوسکوپی سمیت جدید تشخیصی سہولیات کے ذریعے معدے اور نظامِ انہضام سے متعلق متعدد بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہے۔ مریض کو بروقت طبی معائنہ، درست تشخیص اور مناسب علاج مل جائے تو بیماری کو پیچیدہ ہونے سے قبل کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر محمد رضا نے کہا کہ مرغن، تلی ہوئی، چکنائی سے بھرپور اور بہت زیادہ مرچ مصالحے والی غذائیں وقتی طور پر ذائقہ ضرور دیتی ہیں، تاہم بعض افراد میں ان کا زیادہ استعمال معدے کی علامات، تیزابیت، بدہضمی اور ریفلکس کو بڑھا سکتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ متوازن غذا کو معمول بنائیں اور خوراک کے انتخاب میں اعتدال سے کام لیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے مصروف طرزِ زندگی میں لوگ کھانے کے اوقات اور مقدار کا خیال نہیں رکھتے۔ بعض افراد ایک ہی وقت میں بہت زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں، دیر رات کھانا کھاتے ہیں اور کھانے کے فوراً بعد آرام یا نیند کی طرف چلے جاتے ہیں، جس سے معدے کی تیزابیت اور ریفلکس کی شکایات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد رضا نے معدے کی بیماریوں کی نمایاں علامات کے حوالہ سے بتاتے ہوئے کہا کہ معدے سے متعلق بعض ایسی علامات ہیں جنہیں مسلسل نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ سینے میں بار بار جلن اور تیزابیت، معدے میں درد یا مسلسل بھاری پن، متلی یا بار بار الٹی، کھانا نگلنے میں دشواری، پیٹ کا پھولنا، بدہضمی اور کھانے کے بعد غیر معمولی بے آرامی ایسی علامات ہیں جن کی صورت میں مریض کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر علامت کسی ایک مخصوص بیماری کی حتمی نشاندہی نہیں کرتی، اس لیے خود تشخیص یا ازخود ادویات استعمال کرنے کے بجائے مستند معالج سے طبی مشورہ ضروری ہے۔ خصوصاً اگر علامات بار بار ہوں، بڑھ رہی ہوں یا روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہوں تو بروقت طبی معائنہ کرانا چاہیے۔ انہوں نے معدے کی تیزابیت اور GERD کے مریضوں کے لیے خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں بہت زیادہ کھانے کے بجائے تھوڑا تھوڑا کھانا بہتر ہے۔ رات کا کھانا سونے سے کم از کم دو سے تین گھنٹے پہلے کھانا چاہیے تاکہ کھانے اور نیند کے درمیان مناسب وقفہ موجود رہے۔انہوں نے کہا کہ تلی ہوئی، چکنائی والی اور بہت زیادہ مصالحے دار غذاو¿ں سے پرہیز کیا جائے۔ چائے، کافی، کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا استعمال کم کیا جائے۔ بعض افراد میں چاکلیٹ، پودینہ، کیچپ، ٹماٹر، لیموں یا تیزابی غذائیں علامات کو بڑھا سکتی ہیں، اس لیے مریض کو یہ مشاہدہ کرنا چاہیے کہ کون سی غذا اس کی علامات میں اضافہ کرتی ہے اور ضرورت کے مطابق اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر محمد رضا نے مزید کہا کہ سگریٹ نوشی اور تمباکو کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے GERD سمیت معدے کی علامات رکھنے والے افراد کو تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ کھانا کھانے کے فوراً بعد لیٹنے سے بھی گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن مریضوں کو رات کے وقت تیزابیت کی شکایت زیادہ ہوتی ہے، وہ بستر کے سرہانے کی جانب تقریباً 6 سے 8 انچ بلندی رکھنے سے بعض صورتوں میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم صرف تکیے بڑھانے کے بجائے بستر کے سرہانے کو مناسب طریقے سے بلند کرنا زیادہ موزوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کا وزن زیادہ ہے تو وزن میں کمی کی کوشش بھی مفید ہو سکتی ہے، کیونکہ زائد وزن بعض افراد میں ریفلکس کی علامات کو بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح بہت تنگ کپڑے یا بیلٹ پہننے سے بھی گریز کرنا چاہیے، خصوصاً ان افراد کو جنہیں کھانے کے بعد پیٹ یا سینے میں جلن اور بے آرامی محسوس ہوتی ہو۔ ڈاکٹر محمد رضا نے بتاتے ہوئے کہا کہ خود علاج کے بجائے بروقت تشخیص ضروری ہے جس پر توجہ مرکوز کرنا بہت ہی اہم ہے۔ عوام میں ایک عام رجحان یہ ہے کہ معدے کی تکلیف کو معمولی سمجھ کر خود سے ادویات استعمال شروع کر دی جاتی ہیں۔ بعض اوقات وقتی طور پر علامات میں کمی آ جاتی ہے، لیکن بنیادی بیماری موجود رہ سکتی ہے۔ اس لیے بار بار ہونے والی علامات کو دبانے کے بجائے ان کی وجہ معلوم کرنا زیادہ اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ اینڈوسکوپی اور دیگر جدید تشخیصی طریقوں نے معدے اور نظامِ انہضام کی بیماریوں کی تشخیص میں نمایاں آسانی پیدا کی ہے۔ ڈاکٹر مریض کی علامات، طبی تاریخ اور معائنے کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے کہ کس مریض کو کس نوعیت کے ٹیسٹ یا تشخیصی طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ماہر امراض معدہ و جگر ، ڈاکٹر محمد رضا نے کہا کہ ڈاکٹر اور مریض کا تعلق صرف نسخہ لکھنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ مریض جب تک ڈاکٹر کے سامنے اپنی تکلیف، خوف اور مسائل اعتماد کے ساتھ بیان نہیں کرے گا، علاج کا عمل بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مریض کو توجہ سے سنے، اس کی تشویش کو سمجھے اور اسے بیماری، علاج اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں آسان زبان میں آگاہ کرے۔ جو مسیحائی کا اصل مفہوم ہے کہ مریض کو بیماری کے ساتھ تنہا نہ چھوڑا جائے۔ ایک ڈاکٹر کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ کسی بیماری کی تشخیص کر لے بلکہ یہ بھی ہے کہ مریض کو امید، اعتماد اور بہتر صحت کی طرف لے کر جائے۔ ڈاکٹر محمد رضا نے اپنی کامیابیوں کو اپنے والدین سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ والدین دنیا کا عظیم ترین اثاثہ ہیں۔ ان کی دعائیں، تربیت، قربانیاں اور رہنمائی انسان کی شخصیت کی بنیاد بنتی ہیں۔ آج اگر مجھے مریضوں کی خدمت اور طب کے شعبے میں کام کرنے کا موقع ملا ہے تو اس میں میرے والدین کی تربیت اور دعاو¿ں کا بنیادی کردار ہے۔