لاہور (مرزا ندیم بیگ) لاہور پولیس کی نفری کا ایک بڑا حصہ جرائم کی روک تھام، ملزمان کی گرفتاری اور شہریوں کو فوری پولیس رسپانس دینے کے بجائے مختلف سکیورٹی، پروٹوکول، ناکہ بندی، اہم شخصیات کی سکیورٹی، مذہبی و سیاسی اجتماعات، کھیلوں کے مقابلوں اور دیگر خصوصی ڈیوٹیوں پر تعینات رہنے کے باعث فیلڈ پولیسنگ پر دباو بڑھ گیا ہے۔ سرکاری پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال مختلف مواقع پر لاہور میں ہزاروں پولیس افسران و اہلکاروں کو خصوصی سکیورٹی ڈیوٹیوں پر لگایا گیا جس کے نتیجے میں معمول کی پولیسنگ کیلئے دستیاب نفری کی استعداد متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے،پنجاب پولیس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2026 میں پی ایس ایل کے لاہور میں افتتاحی میچ کے موقع پر 6 ہزار سے زائد پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور کیے گئے، جن میں 9 ایس پیز، 29 ڈی ایس پیز، 61 ایس ایچ اوز و انسپکٹرز، 478 اپر سب آرڈینیٹس اور 5 ہزار 786 دیگر اہلکار شامل تھے، جبکہ 54 خواتین پولیس اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی کا حصہ تھیں،اسی طرح پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران لاہور میں 6 ہزار سے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے جبکہ ایک ہزار سے زائد ٹریفک وارڈنز نے بھی فرائض انجام دیے۔ اس ڈیوٹی میں 9 ایس پیز، 25 ڈی ایس پیز، 73 ایس ایچ اوز، 351 اپر سب آرڈینیٹس اور 188 لیڈی کانسٹیبلوں سمیت پولیس کی بڑی نفری شامل تھی،محرم الحرام کے دوران بھی لاہور پولیس کو معمول کی ڈیوٹی سے ہٹ کر بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کرنا پڑے۔ ساتویں محرم کے موقع پر لاہور میں 98 جلوسوں اور 435 مجالس کی سکیورٹی کیلئے 6 ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات کیے گئے، جن میں 6 ڈویژنل ایس پیز، 12 ڈی ایس پیز اور 30 ایس ایچ اوز بھی شامل تھے، جبکہ 77 خواتین پولیس اہلکاروں نے بھی سکیورٹی فرائض سرانجام دیے،رواں سال عیدالفطر کے موقع پر لاہور میں 10 ہزار پولیس افسران و اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے جبکہ چاند رات پر بھی صوبائی دارالحکومت میں 5 ہزار اہلکار مارکیٹوں اور اہم مقامات کی سکیورٹی پر مامور رہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر لاہور میں 10 ہزار سے زائد اہلکار 5 ہزار سے زائد اجتماعات کی سکیورٹی پر تعینات کیے گئے جبکہ شہر کی مویشی منڈیوں کیلئے بھی 600 سے زائد اہلکار الگ سے تعینات رہے، اگست میں چہلم کے موقع پر لاہور میں 10 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو 44 مجالس اور 17 جلوسوں کی سکیورٹی پر تعینات کیا گیا،پولیس ذرائع کے مطابق ان خصوصی ڈیوٹیوں کے علاوہ اہم شخصیات کی مستقل سکیورٹی، سرکاری عمارات و رہائش گاہوں کی حفاظت، پروٹوکول، روٹ سکیورٹی، ناکہ بندی اور دیگر عارضی و مستقل ذمہ داریوں کیلئے بھی پولیس نفری استعمال ہوتی ہے، تاہم لاہور پولیس کی موجودہ مجموعی نفری میں سے ان تمام ڈیوٹیوں پر تعینات اہلکاروں کا تازہ یکجا عدد سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔پرانے سرکاری اعدادوشمار کی بنیاد پر 2012 میں لاہور پولیس کی 26 ہزار 330 نفری میں سے 15 ہزار 730 اہلکار وی آئی پی ڈیوٹی، پروٹوکول، ایسکارٹ اور دیگر عارضی و مستقل تعیناتیوں پر استعمال ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس وقت صرف 10 ہزار 600 اہلکار جرائم کی روک تھام اور تفتیش کیلئے دستیاب تھے۔ تاہم یہ اعدادوشمار موجودہ صورتحال کے بجائے 2012 کے ہیں، اس لیے انہیں موجودہ نفری کا عدد قرار نہیں دیا جا سکتا،موجودہ صورتحال میں اصل سوال یہ ہے کہ لاہور جیسے میگا سٹی میں جہاں آبادی، جرائم اور شہریوں کی پولیس سے توقعات مسلسل بڑھ رہی ہیں، وہاں پولیس کی کتنی نفری روزانہ کی بنیاد پر تھانوں، پٹرولنگ، جرائم کی روک تھام اور تفتیش کے بجائے پروٹوکول اور خصوصی سکیورٹی ڈیوٹیوں میں مصروف ہے۔ پولیس حکام سے حاصل کئے جانے والے تازہ ڈیوٹی روسٹر، سکیورٹی ڈویژن کا نفری ریکارڈ، تھانوں کی منظور شدہ اور موجودہ نفری اور پروٹوکول ڈیوٹی کی تفصیلات ہی اس صورتحال کی اصل تصویر واضح کر سکتی ہیں،ماہرین کے مطابق خصوصی مواقع پر سکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری کا حصہ ہے، تاہم مستقل نوعیت کی غیر جرائم پیشہ ڈیوٹیوں کے باعث اگر تھانوں اور فیلڈ میں نفری کم پڑ جائے تو اس کا براہ راست اثر شہریوں کو پولیس رسپانس، گشت، جرائم کی روک تھام اور تفتیش پر پڑ سکتا ہے۔
پنجاب پولیس سکیورٹی ڈیوٹیوں پر مامور ،معمول کے کاموں کیلئے نفری کی کمی

















