موٹر سائیکل سوار ہلاکت کیس،والدین کی ٹریفک پولیس اہلکار کیخلاف مقدمہ درج کی درخواست

لاہور (مرزا ندیم بیگ) شادمان میں ٹریفک پولیس اہلکار کی جانب سے موٹر سائیکل سوار کو روکنے کی کوشش کے دوران شدید زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہونے والے زین کے خلاف پہلے سے درج مقدمے کی قانونی حیثیت اور ٹریفک اہلکار کے خلاف اہل خانہ کی درخواست پر پیشرفت نے معاملے کو نیا رخ دیدیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق زین کے خلاف مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب وہ حادثے کے بعد زیرعلاج تھا تاہم یکم ستمبر کو زین کی موت کے بعد اس مقدمے میں اس کیخلاف فوجداری کارروائی جاری رکھنے کا سوال قانونی طور پر اہم ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 26 اگست کو شادمان مارکیٹ یوٹرن کے قریب ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق نے بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سوار زین کو رکنے کا اشارہ کیا۔ پولیس کا موقف ہے کہ زین نے رکنے کے بجائے آگے نکلنے کی کوشش کی اور اسی دوران ٹریفک اسسٹنٹ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں زخمی ہوئے۔ زین کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تقریباً پانچ روز زیر علاج رہنے کے بعد یکم ستمبر کو دم توڑ گیا،پولیس کے مطابق واقعہ کے دو روز بعد، 28 اگست کو تھانہ شادمان میں محمد زین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں تیز رفتاری، غفلت اور بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے سمیت ٹریفک اہلکار سے ٹکرانے کا موقف اختیار کیا گیا تھا۔ تاہم زین کی موت کے بعد اس مقدمے میں ملزم کے خلاف ٹرائل یا سزا کی کارروائی عملی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ فوجداری ذمہ داری عائد کرنے کیلئے ملزم کا زندہ ہونا ضروری ہے۔ البتہ مقدمے کا ریکارڈ، وقوعہ کا پولیس موقف اور دیگر شواہد حادثے کی مجموعی تفتیش میں بطور ریکارڈ موجود رہ سکتے ہیں،دوسری جانب زین کے بھائی ایاز اور والدہ نے ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے تھانہ شادمان اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو درخواستیں دی ہیں۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ زین کو روکنے کیلئے ٹریفک اہلکار سڑک کے درمیان آیا اور مبینہ طور پر اسے پکڑنے یا دھکا دینے کی کوشش کی جس کے باعث موٹر سائیکل بے قابو ہوئی اور زین فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا،اس معاملے میں اہم پیش رفت یہ ہے کہ سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق کو مبینہ غفلت اور لاپرواہی پر معطل کردیا ہے جبکہ واقعہ کی محکمانہ انکوائری ایس ایس پی صدر زون حافظ خضر زمان کے سپرد کی گئی ہے۔ ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق انکوائری میں واقعے کے تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لیا جائیگا اور رپورٹ آئی جی پنجاب کو بھجوائی جائیگی۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف مزید کارروائی کا بھی اعلان کیا گیا ہے،قابل ذکر امر یہ ہے کہ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اہل خانہ کی جانب سے ٹریفک اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواستیں دی جاچکی ہیں، تاہم 3 ستمبر تک اس درخواست پر الگ ایف آئی آر درج کیے جانے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسلئے قانونی طور پر اصل سوال یہی ہے کہ انکوائری کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات، میڈیکل و پوسٹ مارٹم ریکارڈ اور دیگر شواہد کی روشنی میں آیا ٹریفک اہلکار کی کارروائی حادثے اور زین کی موت کا سبب بنی یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تفتیش کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ بعض رپورٹس میں سامنے آنے والی فوٹیج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹریفک اہلکار موٹر سائیکل سوار کو روکنے کیلئے سڑک کے درمیان آیا تھا، جبکہ ٹریفک پولیس کا موقف ہے کہ زین رکنے کے بجائے آگے نکلنے کی کوشش میں اہلکار سے ٹکرایا،قانونی ماہرین کے مطابق زین کے خلاف مقدمہ درج ہونا بذات خود اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ حادثے کا ذمہ دار وہی تھا جبکہ اہل خانہ کی جانب سے ٹریفک اہلکار پر الزام عائد کرنا بھی اس وقت تک جرم ثابت نہیں کرتا جب تک آزادانہ تفتیش اور قابل قبول شواہد سے ذمہ داری متعین نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس کیس میں محکمانہ انکوائری کے ساتھ پولیس کی غیر جانب دارانہ تفتیش انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہے،ٹریفک پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے جبکہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔ یوں شادمان واقعہ میں ایک طرف متوفی محمد زین کے خلاف درج مقدمہ اپنی فوجداری کارروائی کے حوالے سے قانونی پیچیدگی اختیار کرچکا ہے، جبکہ دوسری جانب ٹریفک اسسٹنٹ کی معطلی اور جاری انکوائری اس امر کا تعین کرے گی کہ شہری کی موت محض ایک حادثہ تھی یا روکنے کے طریقہ کار میں اہلکار کی غفلت یا لاپرواہی بھی اس المناک واقعہ کا سبب بنی۔