رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم، سینکڑوں کنال رقبہ روڈا کے نام منتقلی کے باوجود فروخت

لاہور (میاں ذیشان) رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کے مالکان کی جانب سے سینکڑوں کنال پر مشتمل مجوزہ سکیم میں روڈا کے نام منتقلی دستاویز اور رہن کے تحت مختص رقبہ بھی مبینہ طور پر فروخت کئے جانے کی بازگشت، متعلقہ اداروں کی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔سڑکوں، پارکوں، قبرستان، سرکاری عمارات، پانی و نکاسی آب اور دیگر عوامی سہولیات کیلئے مختص اراضی سمیت رہن شدہ پلاٹوں کی مبینہ فروخت نے روڈا کے افسران و اہلکاروں کی نگرانی اور کارروائی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔روڈا کے نجی ہاﺅسنگ سکیم ضوابط کے تحت منتقلی و رہن کی شرائط پوری کئے بغیر تشہیر، فروخت اور رہن شدہ پلاٹوں کی منتقلی کی اجازت نہیں تاہم مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود مﺅثر کارروائی نہ ہونے سے معاملہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔متاثرین کا مطالبہ ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رائل انکلیو کی حتمی منظوری تک فردات کے اجراء، رجسٹریوں اور انتقالات کی تصدیق پر فی الفور پابندی عائد کرنے کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور کو مراسلہ جات جاری کئے جائیں۔ جبکہ موضع ہاﺅنڈ اور تیج گڑھ کے ریونیو ریکارڈ میں سوسائٹی مالکان کے نام ملکیت کے کھاتہ جات کو بلاک کرتے ہوئے میونسپل سروسز کو منقطع کرنے کے لئے متعلقہ اتھارٹیز یا محکمہ جات کو خطوط جاری کرنا بھی ناگزیرہے۔ تفصیلات کے مطابق رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کے مالکان کی جانب سے 888 کنال پر مشتمل مجوزہ سکیم میں روڈا کے نام منتقلی دستاویز اور رہن کے تحت مختص کئے جانے والے رقبے کو بھی مبینہ طور پر فروخت کئے جانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ سڑکوں، پارکوں، قبرستان، سکول، پانی و نکاسی آب کے منصوبوں، پمپنگ اسٹیشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر عوامی سہولیات کیلئے مختص اراضی کے ساتھ رہن شدہ پلاٹوں کی مبینہ خرید و فروخت نے روڈا کی نگرانی، جانچ پڑتال اور منظوری کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ رائل انکلیو کی حتمی منظوری تک فردات کے اجرائ، رجسٹریوں اور انتقالات کی تصدیق پر فی الفور پابندی عائد کرنے کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور کو باقاعدہ مراسلہ جاری کیا جائے، اسی طرح موضع ہنڈو اور تیج گڑھ کے ریونیو ریکارڈ میں سوسائٹی مالکان کے نام درج ملکیتی کھاتہ جات کو بھی قانون کے مطابق بلاک کرنے اور سکیم سے متعلق میونسپل خدمات منقطع کرنے کیلئے متعلقہ اتھارٹیز اور محکموں کو خطوط ارسال کئے جائیں تاکہ مبینہ طور پر متنازع یا عوامی مقاصد کیلئے مختص اراضی کی مزید خرید و فروخت اور انتقالات کا راستہ روکا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق رائل انکلیو انتظامیہ نے تقریباً 8 سو 88 کنال اراضی پر مشتمل فائل راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں منظوری کیلئے جمع کرا رکھی ہے، تاہم سکیم کی حتمی منظوری سے قبل ہی مختلف مدات کیلئے مختص رقبے اور رہن شدہ پلاٹس کی مبینہ خرید و فروخت کی اطلاعات سامنے آنے لگی ہیں، جو روڈا کے نجی ہاﺅسنگ سکیم ضوابط کے تحت انتہائی اہم معاملہ ہے، کیونکہ دستیاب روڈا ضوابط کے مطابق منتقلی دستاویز کے ذریعے سڑکوں، کھلی جگہوں، پارکوں، قبرستان، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر ضروری خدمات کیلئے مختص رقبہ اتھارٹی کے نام منتقل کیا جانا لازم ہے، جبکہ عوامی عمارات کیلئے مختص رقبے کا کم از کم 50 فیصد، مقررہ حد تک، اتھارٹی کے نام منتقل کرنے کی شرط بھی موجود ہے۔ اسی طرح ترقیاتی کاموں کی تکمیل کی ضمانت کے طور پر سکیم کے مقررہ حصے کے پلاٹس روڈا کے حق میں رہن رکھنا اور متعلقہ اندراجات ریونیو ریکارڈ میں مکمل کرنا ضروری ہے، جبکہ مارکیٹنگ، تشہیر اور پلاٹوں کی فروخت بھی مقررہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد ہی کی جاسکتی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اگر رائل انکلیو انتظامیہ نے حتمی منظوری سے قبل ہی منتقلی دستاویز کے تحت روڈا کو منتقل کئے جانے والے رقبے یا رہن شدہ پلاٹس کو شہریوں کے ہاتھ فروخت کیا ہے تو یہ معاملہ محض انتظامیہ کی مبینہ خلاف ورزی تک محدود نہیں رہتا بلکہ روڈا کے متعلقہ شعبوں کی جانچ پڑتال اور نگرانی کے نظام کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے، کیونکہ منظوری کے عمل میں ملکیتی و ریونیو ریکارڈ، مجوزہ لے آﺅٹ پلان، عوامی مقاصد کیلئے مختص اراضی، رہن شدہ پلاٹس اور منتقلی و رہن کی دستاویزات کی جانچ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، 8 سو 88 کنال کے مجموعی رقبے کو سامنے رکھتے ہوئے دستیاب قواعد کے مطابق اگر پارکوں و کھلی جگہوں کیلئے کم از کم 7 فیصد یعنی 62.16 کنال، قبرستان کیلئے 2 فیصد یعنی 17.76 کنال اور عوامی عمارات کیلئے 2 فیصد یعنی 17.76 کنال کا کم از کم حساب لیا جائے تو صرف ان تین مدات میں 97.68 کنال اراضی عوامی مقاصد کیلئے مختص بنتی ہے، جبکہ سڑکوں، مساجد، سکول، پانی و نکاسی آب، پمپنگ اسٹیشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، پارکنگ اور دیگر ضروری سہولیات کا رقبہ اس کے علاوہ ہوگا، لہٰذا ان تین مدات کی زمین منہا کرنے کے بعد بچنے والے 790.32 کنال کو بھی مکمل طور پر قابل فروخت رقبہ قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ منظور شدہ نقشے کے مطابق دیگر لازمی سہولیات اور رہن کی شرائط بھی الگ سے پوری ہونا ضروری ہیں۔ مزید اہم امر یہ ہے کہ روڈا کی سرکاری فہرست میں رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم، تھہیری روڈ، موضع ہنڈو اور تیج گڑھ، تحصیل شالیمار، لاہور کو غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں میں شامل کیا گیا ہے، جس کے باعث اس سکیم میں کسی بھی قسم کی خرید و فروخت، رجسٹری یا انتقال سے قبل شہریوں کے مفادات کے تحفظ اور ریکارڈ کی مکمل چھان بین مزید ضروری ہوجاتی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر مبینہ طور پر عوامی مقاصد کیلئے مختص زمین یا رہن شدہ پلاٹس پہلے ہی فروخت کئے جاچکے ہیں تو مستقبل میں منظور شدہ نقشے کے مطابق سڑکوں، پارکوں، قبرستان، سکول، پانی و نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک پیچیدہ قانونی و انتظامی مسئلہ بن سکتی ہے، اس لیے روڈا کو چاہیے کہ حتمی منظوری تک رائل انکلیو کے حوالے سے متعلقہ ریونیو حکام کو واضح ہدایات جاری کرے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور کو فردات، رجسٹریوں اور انتقالات کی تصدیق روکنے کیلئے مراسلہ ارسال کیا جائے، موضع ہنڈو اور تیج گڑھ کے متعلقہ کھاتہ جات اور انتقالات کی مکمل جانچ کی جائے اور سوسائٹی سے متعلق ملکیتی کھاتہ جات کو قانون کے مطابق عارضی طور پر بلاک کرنے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے، جبکہ میونسپل خدمات فراہم کرنے والے محکموں کو بھی سکیم کی قانونی حیثیت اور منظوری کی صورتحال واضح ہونے تک ضروری کارروائی کیلئے مطلع کیا جائے، متاثرین نے مزید مطالبہ کیا کہ روڈا کے متعلقہ افسران سے بھی وضاحت طلب کی جائے کہ مجوزہ سکیم کی فائل میں عوامی مقاصد کیلئے مختص اراضی، رہن شدہ پلاٹس اور ملکیتی ریکارڈ کی کیا صورتحال ہے، موقع پر زمین کی تصدیق کب اور کس افسر نے کی، آیا مبینہ طور پر فروخت کئے گئے رقبے کی نشاندہی کی گئی یا نہیں اور اگر کسی مرحلے پر غفلت یا نگرانی میں ناکامی سامنے آئے تو ذمہ دار افسران کا تعین کرکے قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ رائل انکلیو انتظامیہ کو بھی مبینہ الزامات کے جواب میں مکمل دستاویزی وضاحت اور منظور شدہ یا زیر غور لے آﺅٹ پلان، رہن شدہ پلاٹس اور عوامی مقاصد کیلئے مختص اراضی کی تفصیلات سامنے لانی چاہئیں تاکہ شہریوں کو اپنی سرمایہ کاری اور پلاٹوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں واضح اور مستند صورتحال معلوم ہوسکے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان شیر افضل بٹ نے کہا ہے کہ رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کے مالکان کو مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے باقاعدہ نوٹس جاری کئے جاچکے ہیں جبکہ شہریوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور کو زبانی طور پر سفارش کی گئی ہے کہ سوسائٹی سے متعلق فرد، انتقال اور رجسٹری کی تصدیق پر پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف محکمانہ اور زمینی سطح پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ متاثرین کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستیں بھی روڈا کے پاس زیر التوا ہیں جنہیں متعلقہ فائل کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ شیر افضل بٹ نے واضح کیا کہ جب تک سوسائٹی انتظامیہ روڈا کے قواعد و ضوابط کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے نہیں کرتی، رائل انکلیو کو حتمی منظوری تو درکنار ابتدائی منظوری بھی نہیں دی جائے گی اور عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے قانون کے مطابق ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کے حوالے سے سامنے آنے والے مبینہ طور پر سنگین معاملات پر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی نگرانی اور متعلقہ شعبوں کی کارکردگی بھی سوالات کی زد میں ہے کیونکہ اگر حتمی منظوری سے قبل عوامی مقاصد کیلئے مختص یا رہن شدہ اراضی کی مبینہ خرید و فروخت ہوئی ہے تو اس کی بروقت روک تھام اور جانچ پڑتال روڈا کی ذمہ داری بنتی ہے۔ خبر کے حوالے سے رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کے ترجمان سید علی ارتضیٰ سے متعدد مرتبہ رابطہ کرکے مﺅقف اور وضاحت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی موقف، وضاحت یا دستاویزی جواب پیش نہیں کیا گیا۔