لاہور(خبر نگار/ فوٹوگرافر: میاں شاہنواز)سکولوں کی تعطیلات ختم ہوتے ہی تعلیمی سرگرمیاں تو بحال ہو گئی ہیں لیکن ان کے ساتھ ہی معصوم بچوں کی صحت سے کھیلنے والا سٹریٹ فوڈ مافیا بھی بلا خوف و خطر متحرک ہو چکا ہے۔ شہر بھر کے سرکاری و نجی سکولوں کے باہر چھٹی کے وقت ٹھیلوں اور ریڑھیوں پر فروخت ہونے والے غیر معیاری، ملاوٹ شدہ اور نامعلوم اجزا سے تیار کردہ مشروبات بچوں میں خطرناک امراض بانٹ رہے ہیں، تاہم مافیا کے خلاف غذائی معیار کی ضامن پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں انتہائی ناگزیر ہو گئی ہیں۔ چھٹی کے وقت گرمی اور پیاس سے بے حال بچے چند روپوں کے عوض سستے شربت، ڈبے کے جعلی جوسز، سلش اور گنے کا رس خرید کر پی رہے ہیں۔ ان پوائنٹس پر صفائی کے بنیادی اصولوں کی جس طرح دھجیاں اڑائی جاتی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ گندے اور ایک ہی پانی میں بار بار دھونے والے شیشے کے گلاس، بغیر ڈھکے جگ، مکھیاں اور کیمیکل سے تیار کردہ برف کا بے دریغ استعمال عام منظر ہے۔ بیس سے تیس روپے کے ایک گلاس کے بدلے بچوں کی صحت داو¿ پر لگائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور مقامی معالجین کے پاس پیٹ کی بیماریوں، الٹی، پیچش اور بخار میں مبتلا بچوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کاغذی حد تک تو سکولوں کی حدود کے پاس غیر معیاری اشیا اور مشروبات کی فروخت پر پابندی اور ”سیف سکول زون“جیسے قوانین کے طبل بجائے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر تعلیمی اداروں کے ارد گرد 200 میٹر کا علاقہ غیر معیاری خوراک کے کھلے میدان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک طرف اگر ریگولیشن کا یہ عالم ہے تو دوسری طرف معائنہ کاری کا نظام محض کاغذی کارروائیوں تک محدود ہے۔ والدین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ مہنگائی کے دور میں بچوں کا مہنگا علاج کروانے پر مجبور ہیں کیونکہ بیس روپے کا یہ سستا مشروب دراصل زہرِ قاتل بن چکا ہے۔ انتظامیہ کی اس مجرمانہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث معصوم بچوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلے عام کھلواڑ جاری ہے۔ اگر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے فوری طور پر سکولوں کے باہر انسپیکشن مہم کا آغاز نہ کیا، گراو¿نڈ لیول پر نمونے لے کر لیبارٹری ٹیسٹنگ نہ کرائی اور گندے مشروبات بیچنے والوں کو بھاری جرمانے، سیلنگ یا مقدمات کا نشانہ نہ بنایا تو یہ غفلت بچوں کی صحت کیلئے ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر جائے گی۔
لاہور(خبر نگار)پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ترجمان شہزاد حسین کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور نے غیر معیاری اشیاءخورونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے آپریشن ٹیموں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور خاص کر معصوم بچوں کو سکولوں کے باہر بیماریاں فروخت کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ سکول کھلنے کے بعد اب ان کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں، ہمارا مقصد صرف سزائیں دینا نہیں بلکہ بچوں کی صحت کے گرد ایک محفوظ اور صحت بخش حصار قائم کرنا ہے۔ عوام کی صحت پر ڈاکا ڈالنے والوں کیلئے اب پنجاب کی سرزمین پر کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی۔
معصوم بچوں کی صحت سے کھیلنے والا سٹریٹ فوڈ مافیا سرگرم


















