لاہور (اپنے رپورٹر سے) صوبائی دارالحکومت کے اہم تدریسی ہسپتال سر گنگا رام میں ڈاکٹرز کی منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں تعیناتی کا عمل مکمل نہ ہونے کے باعث مریضوں کو علاج معالجے کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال میں روزانہ آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد کے مقابلے میں مختلف شعبوں میں طبی عملے کی کمی نے موجود ڈاکٹرز پر کام کا بوجھ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کو طویل انتظار، معائنے میں تاخیر اور بعض صورتوں میں علاج کیلئے دیگر ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔پنجاب کے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ سابقہ بھرتی ریکارڈ کے مطابق سر گنگا رام ہسپتال میں مختلف کیڈر اور شعبوں کی متعدد آسامیاں خالی ہونے پر بھرتی کیلئے اشتہارات جاری کئے جا چکے ہیں۔ ایک سرکاری بھرتی دستاویز میں سر گنگا رام ہسپتال کیلئے میڈیکل آفیسرز اور وومن میڈیکل آفیسرز کی 45 آسامیاں جبکہ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ بلاک کیلئے مزید 16 آسامیاں درج کی گئی تھیں۔اسی طرح ہسپتال کے مختلف اہم کلینیکل شعبوں میں سینئر رجسٹرار کی آسامیوں کی نشاندہی بھی سرکاری ریکارڈ میں کی گئی۔ ریڈیالوجی، یورولوجی، گیسٹروانٹرولوجی، سرجری، امراضِ نسواں اور میڈیسن کے شعبوں میں سینئر رجسٹرار کی مجموعی 20 آسامیاں بھرتی کیلئے ظاہر کی گئی تھیں۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کی کمی کا براہ راست اثر او پی ڈی، ایمرجنسی، وارڈز اور آپریشن تھیٹرز پر پڑتا ہے۔ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث ایک ڈاکٹر کو معمول سے زیادہ مریض دیکھنا پڑتے ہیں، جس سے ہر مریض کو مناسب وقت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ بالخصوص میڈیسن، سرجری، گائنی، گیسٹروانٹرولوجی، یورولوجی اور ریڈیالوجی جیسے شعبوں میں ماہر ڈاکٹرز کی دستیابی علاج کے معیار اور مریضوں کے بروقت تشخیص کیلئے انتہائی اہم ہے۔ڈاکٹرز کی کمی کے باعث تشخیصی عمل بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ریڈیالوجی اور دیگر تشخیصی شعبوں میں ماہرین کی کمی کی صورت میں ٹیسٹ اور رپورٹس کی تکمیل میں تاخیر ہو سکتی ہے جبکہ آپریشن سے متعلق شعبوں میں سینئر ڈاکٹرز کی کمی آپریشنز کے شیڈول اور مریضوں کے داخلے پر اثر انداز۔ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی کا ایک اور اہم اثر موجود طبی عملے پر اضافی ڈیوٹی اور کام کے دباو کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مسلسل زیادہ مریض دیکھنے اور اضافی ڈیوٹیاں دینے سے ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور مریضوں کو فراہم کئے جانے والے وقت پر دباو¿ بڑھتا ہے۔ گنگا رام ہسپتال میں ڈاکٹرز کی خالی آسامیوں کو محض انتظامی مسئلہ قرار نہیں بلکہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں طبی عملے کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے سے سرکاری شعبہ صحت پر عوام کا اعتماد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خالی آسامیوں کو مستقل بنیادوں پر پر کرنے کے ساتھ ساتھ عبوری طور پر ایڈہاک، کنٹریکٹ یا لوکم بنیادوں پر ڈاکٹرز کی دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ مریضوں کو علاج کی سہولت میں تعطل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔طبی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سر گنگا رام ہسپتال کی منظور شدہ، تعینات اور خالی آسامیوں کا تازہ ترین ڈیٹا جاری کرے اور جن شعبوں میں ڈاکٹرز کی کمی سب سے زیادہ ہے وہاں ترجیحی بنیادوں پر بھرتیاں کی جائیں۔
گنگا رام ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی، مریضوں کا علاج متاثر



















