اندھے قتل نمٹانے کی شرح میں بہتری کیلئے خصوصی حکمت عملی

لاہور (مرزا ندیم بیگ) لاہور پولیس نے رواں سال اندھے قتل کے مقدمات کی تفتیش کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے ان کی شرح حل میں مزید بہتری لانے کیلئے خصوصی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ سی آئی اے، انویسٹی گیشن ونگ، فرانزک ماہرین اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کے مشترکہ استعمال سے ایسے مقدمات کو ٹریس کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جن میں ابتدائی طور پر مقتول اور ملزمان کے درمیان کسی واضح تعلق یا محرک کا سراغ موجود نہیں ہوتا۔پولیس ذرائع کے مطابق رواں سال لاہور میں رپورٹ ہونے والے اندھے قتل کے مقدمات کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے، جس میں مجموعی مقدمات، ٹریس ہونے والے کیسز، گرفتار ملزمان، چالان عدالتوں میں جمع ہونے والے مقدمات اور اب بھی زیرِ تفتیش کیسز کی تفصیلات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر اندھے قتل کے مقدمے کی نگرانی سینئر افسران کی سطح پر کی جاتی ہے تاکہ تفتیش میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ذرائع کے مطابق ایسے مقدمات کی تفتیش میں ڈی این اے پروفائلنگ، موبائل فون کال ڈیٹا ریکارڈ ، جیو فینسنگ، سیف سٹی اور نجی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج، فرانزک شواہد، فنگر پرنٹس، پوسٹ مارٹم رپورٹس، ڈیجیٹل فارنزک، مالی لین دین کا ریکارڈ اور انسانی انٹیلی جنس سے بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے۔ متعدد مقدمات میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی جن کا بظاہر مقتول سے کوئی تعلق سامنے نہیں آ رہا تھا۔لاہور پولیس نے اندھے قتل کے مقدمات کی شرحِ حل بڑھانے کیلئے ضلعی سطح پر خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دینے، فرانزک رپورٹس کے حصول میں تیزی لانے، کرائم سین کو محفوظ بنانے، جدید شواہد اکٹھے کرنے کی تربیت، اور سیف سٹی کے ساتھ موثر رابطہ کاری کو اپنی نئی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ اہم مقدمات کا باقاعدگی سے کرائم میٹنگز میں جائزہ لیا جا رہا ہے، جہاں ہر کیس کی پیش رفت پر متعلقہ افسران سے جواب طلبی بھی کی جاتی ہے۔پولیس حکام کا موقف ہے کہ اندھے قتل کے مقدمات روایتی جرائم کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں، تاہم جدید فرانزک سائنس، ڈیجیٹل شواہد اور پیشہ ورانہ تفتیش کے امتزاج سے ان کی شرحِ حل میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ حکام کے مطابق شہریوں کے تعاون، بروقت اطلاع اور دستیاب ویڈیو شواہد بھی ایسے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔