غزہ،واشنگٹن :(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)ٹرمپ کادعویٰ مسترد،غزہ معاہدہ اسرائیلی انخلا سے مشروط، حماس نے غیرمسلح ہونے سے انکار کردیا۔
حماس کے سینئر رہنما غازی حمد نے کہااسرائیلی افواج کے غزہ سے مکمل انخلا سے قبل غیرمسلح ہونے کاعمل شروع نہیں کیاجائےگا،ہتھیاروں کامعاملہ اسرائیلی انخلا اورغزہ کی تعمیرنو سے منسلک ہے،اسرائیل اپنی ذمہ داریاں پوری کرےگا تو ہی معاہدے پرعمل درآمد ممکن ہوگا،اسلحے کے معاملے میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں ہوگا ،غیرمسلح ہونے کے عمل کی نگرانی قومی کمیٹی کرے گی،مصر،قطر اورترکیہ کی ثالثی وسفارتی کوششوں کوسراہتے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدرٹرمپ نے کہاحماس ودیگر فلسطینی گروہوں کے غیر مسلح ہونے کامعاہدہ طے پا گیا ،اسرائیلی افواج غزہ سے واپس ،غزہ کا انتظام نئی فلسطینی فورس سنبھالے گی،معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب اہم قدم،مرحلہ وار اور منظم طریقے سے نافذ کیا جائےگا۔
دریں اثنا غزہ بورڈ آف پیس نے اعلان کیا حماس نے جنگ بندی کے اگلے مراحل پر عملدرآمد کےلئے تفصیلی روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ،منصوبے کے تحت حماس پہلی بار اپنے تمام ہتھیار مرحلہ وار چھوڑنے کے عملی منصوبے پر رضامند ہوئی ،غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا کی راہ ہموار ہوگی،معاہدہ کئی ماہ مذاکرات کے بعد طے پایا ،مقصد غزہ میں نئی حکومت،سکیورٹی،تعمیر نو اور معاشی بحالی کو ممکن بنانا ہے۔
ٹرمپ کادعویٰ مسترد،پہلے اسرائیلی انخلا پھر غیر مسلح ہوں گے،حماس



















