امریکہ کے 11 روز بھی شدید حملے، ایران کے تابڑ توڑ جوابی وار

واشنگٹن، تہران (مشرق نیوز) امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ان کی فورسز نے مسلسل گیارہویں رات ایران میں فوجی اہداف پر حملے کئے ہیں۔ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ ایران پر جاری ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کے شہر تبریز کے مغرب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ جنوبی ایران کےعلاقے سیریک کے اطراف میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے شہروں کرمانشاہ، بوشہر اور خوزستان سے بھی امریکی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے، تاہم دھماکوں کی نوعیت اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔

دوسری طرف ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ حملوں کا دعویٰ کر دیا، حملوں میں اسلحہ گوداموں اور امریکی افواج کے لاجسٹک آلات کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے اردن کے علاقے الرکبان میں امریکی فوجی اڈے پر ایف پندرہ طیارہ تباہ کرنے اور متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کر دیا، بیان میں کہا امریکی اڈے پر دفاعی ریڈار سسٹم تباہ کیا، بحرین میں میزائل حملے سے امریکی کمپنی ایمازون کا مرکزی ڈیٹا سینٹر تباہ ہوا۔

بحرین کے شہر محرق اور رفاع میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، کویت میں امریکی ریڈار، مواصلاتی نظام اور سیٹلائٹ تنصیبات پر میزائل اور ڈرونز داغے گئے۔ کویت کی علی السالم اور احمد الجابر ایئربیس پر ایم کیو نائن ڈرون ہینگر کو ٹارگٹ کیا گیا، ایف پی ایس 117 ریڈار، پیٹریاٹ دفاعی نظام اور فضائی دفاع سے متعلق سیٹلائٹ مواصلاتی نظام تباہ ہوگئے۔

کیمپ العدیر میں ہیلی کاپٹروں کے پارکنگ ایریا پر ڈرون حملہ کیا گیا، الجابر بیس میں فوجی دستوں کی رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسکے علاوہ کویت کے مغربی علاقے میں واقع امریکی فوجی اڈے کیمپ دوحہ کو ڈورن حملوں کا نشانہ بنایا، حملوں میں اسلحہ گوداموں اور امریکی افواج کے لاجسٹک آلات کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کارروائی امریکہ کی مسلسل جارحیت کے جواب میں کی گئی، دشمن کی کسی بھی نئی کارروائی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارح دشمن کو سزا دینے کی کارروائی بدستور جاری ہے، یہ خطہ امریکی جارحیت پسند افواج کیلئے نہیں ہے، مزید جانی نقصان سے بچنے کیلئے امریکی فوج کو خطہ چھوڑ دینا چاہئے۔