لاہور (میاں ساجد) وزیراعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم کا متحرک ہونا کار لاحاصل، لاہور کے معروف گائنی ہسپتال لیڈی ایچی سن میں مریضہ عائشہ عزیز کا ایڈز ٹیسٹ پازٹیو آنے کے باوجود ایمرجنسی میں طبی معائنے کے باوجود فوری لیبر روم منتقل کرکے اسکا آپریشن کردیا گیا۔ آپریشن کے بعد جاری ہونے والی رپورٹ میں مریضہ کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی تصدیق نے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ فرض شناسی پر کئی سوالات کھڑے کردئیے۔ سنگین موذی مرض میں مبتلا مریضہ کا ہنگامی بنیادوں پر آپریشن کیوں کیا گیا؟ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یونیورسل پری کاشزنز پر عمل کیا گیا؟ کیا ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار ممکن نہ تھا؟ ایچ آئی وی پازیٹو مریض کے آپریشن کیلئے ڈبل گلوز، الگ سرجیکل انسٹرومنٹ اور پوسٹ ایکسپوژر پروفائلکس پروٹوکول کو بھی کیا ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے کہ نہیں جبکہ آپریشن میں شامل عملے کے ایچ سی وی، ایچ بی وی، ایچ آئی وی سکریننگ ٹیسٹ بھی کروائے گئے کہ نہیں؟ تفصیلات کے مطابق ایڈز کی مریضہ عائشہ عزیز جو کہ اپنے علاج کیلئے لیڈی ایچی سن ہسپتال میں داخل بھی نہ تھی، نہ ہی مریضہ نے ایڈز کنٹرول پروگرام میں اپنی رجسٹریشن کروائی، تاہم ہسپتال میں باقاعدہ روسٹر میں مریضہ کا ایچ آئی وی پازٹیو کوڈ ہونے کے باوجود اسکا علاج کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی صحت اصلاحات میں دیکھا جائے تو پنجاب حکومت نے بجٹ 2026-27ءمیں طبی شعبہ کیلئے 500 ارب سے زائد مختص کئے ہیں اور ”ڈیجیٹل پنجاب+ مریم نواز ہیلتھ کلینکس“ کا ویژن بھی دیا گیا ہے لیکن اس واقعہ کے بعد طبی حلقے سوال کررہے ہیں کہ اگر بیسک لیب رپورٹنگ اور آپریشن تھیٹر کے ایس او پیز پر عملدرآمد ہی یقینی نہ بنایا گیا تو پھر اربوں کے بجٹ کا کیا فائدہ؟ چیف سیکرٹری پنجاب پہلے ہی تمام سرکاری دفاترز کو ”گریوینس ریڈریسل کمشنرز“ تعینات کرنے اور یکم جولائی سے e-FOAS پر جانے کی ہدایت دے چکے ہیں۔ اگر ٹیسٹ رپورٹ آپریشن سے پہلے موجود تھی اور پروٹوکول فالو نہیں ہوا تو یہ صرف ایک مریضہ کا کیس نہیں بلکہ ہزاروں ہیلتھ ورکرز کی سیفٹی کیلئے خطرناک ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ”صحت ہر شہری کا حق“ پالیسی کی کامیابی کا انحصار گراﺅنڈ لیول پر ایس او پیز پر عملدرآمد پر ہی ہے لیکن لیڈی ایچی سن ہسپتال میں ایسی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیوں ہوا۔ معاملے کی تحقیقات کی حتمی ذمہ داری کا تعین ہسپتال ایڈمنسٹریشن کی تھی۔ ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لیب ٹیکنیشن نے مریضہ کی رپورٹ میں ردوبدل بھی کیا ہے جس کے اس نے پیسے وصول کئے ہیں۔ ڈاکٹرز نے اپنی شناخت کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ لیڈی ایچی سن ہسپتال میں تمام انتظامات انتہائی ناقص ہیں جبکہ کرپٹ مافیا اتنا مضبوط ہے کہ اسکے مقابلے میں کسی کی نہیں چلتی۔ مریضہ عائشہ عزیز جس کے ہسپتال میں داخلے کا نمبر 2-4972603 ریکارڈ باقاعدہ درج ہے۔ ایڈز کی مریضہ عائشہ عزیز کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹرز نے جب میڈیکل سپرنٹندنٹ ڈاکٹر ثوبیہ جاوید کو مریضہ کے ایڈز میں مبتلا ہونے کے حوالے سے بتایا تو انہوں نے فوراً اسکا ریکارڈ چھپانے کیلئے کہا جبکہ سینٹری انسپکٹر توقیر خان کو خصوصی تنبیہ کی گئی کہ ڈاکٹرز ہاسٹل میں جس اوزار کے ساتھ اسکا آپریشن کیا گیا ہے، زمین کھود کر اس میں دبا دیا جائے۔ علاوہ ازیں ایم ایس ڈاکٹر ثوبیہ جاوید نے عائشہ عزیز کے حوالے سے ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کو سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ اس واقعہ کا کسی کو بھی علم نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں یہ واضح رہے ایڈز کنٹرول پروگرام نے اپنے واضح پیغام میں کہا ہے کہ اگر کوئی بھی شہری اس خطرناک مریض میں مبتلا ہے تو اسکا ایڈز کنٹرول پروگرام سے رجوع کرنا لازم و ملزوم ہے جبکہ اگر کوئی شہری ایڈز کنٹرول پروگرام کی ویب سائٹ پر اسکا اندراج کرواتا ہے تو ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت متعلقہ ڈیپارٹمنٹ اس مریض کے گھر آکر اپنا تمام پروسیس مکمل کرتا ہے۔ شہری حلقوں نے لیڈی ایچی سن ہسپتال انتظامیہ کے اس غیرذمہ دارانہ روئیے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا طرزعمل دوسرے مریضوں اور انکی صحت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ خبر کے بارے میں موقف کیلئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ثوبیہ جاوید سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی جبکہ ترجمان محکمہ صحت پنجاب نے بھی کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ تاہم اگر وہ اب بھی اس خبر کے حوالے سے کوئی موقف دینا چاہیں تو ادارہ من و عن انکا موقف شائع کریگا۔
لاہور ( اپنے رپورٹر سے )پی ایس ٹو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ لیڈی ایچی سن آفتاب نے روزنامہ ”مشرق“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایم ایس صاحبہ کو کال کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھ کہا ہے کہ آپ سے بات کروں۔ آفتاب نے اس خبر کے بارے میں موقف دیتے ہوئے کہا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں، مریضہ کا HIVپازٹیو نہیںنیگٹیو ہے۔ دوسری طرف روسٹر ہی جعلی ہے جبکہ ہسپتال میں مریضہ عائشہ عزیز کے ایم آر نمبر 4972603-2 کے مطابق روسٹر میں مریضہ عائشہ عزیز کا HIV پازٹیو ہے اور روسٹر میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ عائشہ عزیز HIV پازٹیو کی مریضہ ہے۔ روزنامہ مشرق نے مزید اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایس صاحبہ سے مزید پتہ کرکے بتادیں کہ لیڈی ایچی سن ہسپتا ل میں اس مریضہ کا علاج بغیر کسی ایس پی اویز کے کیا گیا تو انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ جتنا جواب فراہم کرنا تھا کر دیا اور اپنا فون بند کردیا۔
لیڈی ایچی سن ہسپتال میں ایڈز کی مریضہ کا آپریشن انتظامیہ کی فرض شناسی پر سوالیہ نشان


















