تہران،باکو:(مشرق نیوز)ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو امریکہ کی شکست کا اعلان قراردےدیا۔
چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے آذربائیجان میں او آئی سی پارلیمانی یونین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہااسلام آباد مفاہمتی یادداشت طاقت کے زور نہیں ،ایران کے مضبوط موقف و عوامی مزاحمت کے نتیجے میں وجود میں آئی،ایران نے مشکل حالات کے باوجود اپنے قومی مفادات کا دفاع کیا اور مذاکراتی عمل میں خودمختاری ،وقار کو برقرار رکھا،معاہدہ درحقیقت امریکی ناکامی ، ایران کی سفارتی کامیابی کی علامت بن گیا ۔
باقرقالیباف نے کہا مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ،استحکام بیرونی طاقتوں کے ذریعے نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے باہمی تعاون و مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے،علاقائی سلامتی کی ذمہ داری خود خطے کے ممالک کو سنبھالنی چاہیے،خطے کے ممالک علاقائی سلامتی خود یقینی بنائیں، بیرونی مداخلت مسترد کر دیں، خود مختاری کے احترام کی بنیاد پر تعاون کیلئے تیار ہیں۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حماس کی سیاسی قیادت کے سینئر رکن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ،ایران ،امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات، خطے کی تازہ صورتحال، فلسطین کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی،حماس نے ایران ،امریکہ کے درمیان ہونے والے ابتدائی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاامید ہے پیشرفت سے غزہ میں جاری کشیدگی اور تشدد کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی،عباس عراقچی نے کہاایران فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی مکمل حمایت جاری رکھتے ہوئے جدوجہد ،حقوق کے حصول تک ساتھ کھڑا رہے گا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکی شکست کا اعلان ہے،باقر قالیباف


















