تہران:(مشرق نیوز)جنگ بندی معاہدے،مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیاں،ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا۔
ایرانی فو ج کے مطابق فیصلہ امریکہ ،اسرائیل کی جانب سے جنگ کے بعد طے پانےوالی مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کیا گیا ،امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کیلئے طے شدہ مفاہمتی معاہدے کی پہلی شق کی کھلی خلاف ورزی کی گئی، اسرائیل جنوبی لبنان میں سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے،اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز کو جہازوں و بحری تجارتی راستوں کےلئے بند کیا۔
اپنے بیان میں ایرانی فوجی کمان نے مزید کہا اقدام دشمن کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کے جواب میں پہلا قدم ہے، مبینہ جارحیت ،معاہدوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو مزید اقدامات بھی کرسکتے ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا دوسرے فریق کے کچھ وعدے پورے نہ ہوئے تو مجموعی مفاہمت مشکل میں پڑ سکتی ہے، امریکہ پر لازم ہے اسرائیل کو لبنان پر حملے روکنے پر مجبور ،اپنے وعدوں کی پاسداری کرے،سوئٹزرلینڈ میں وعدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کریں گے،دوسرے فریق کو جلد از جلد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، دوسری طرف معاہدوں پر عمل نہ کیاگیا تو ایران جوابی اقدامات کرے گا، ایران نے وعدے کے بدلے وعدے نبھانے کی پالیسی اپنائی۔
پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ایران ،امریکہ کے درمیان فی الحال صرف دشمنی ،ایران لبنان میں جنگ بندی کو ریڈ لائن سمجھتا ،پیچھے نہیں ہٹے گا، امریکہ کےساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت میں لبنان کی علاقائی سالمیت کو خاص اہمیت دی گئی ،لبنان میں جنگ کے خاتمے اور امن کی بحالی کو معاہدے میں واضح طور پر شامل کیا ،امریکہ ،اتحادیوں کو لبنان میں قبضہ ختم کرنا ہوگا۔
جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، ایران نے آبنائے ہرمزکو دوبارہ بند کردیا

















