لاہور (کامرس رپورٹر) وفاقی بجٹ 2026-27ءکے اعلان کے بعد ملک بھر کی طرح لاہور کی بڑی تجارتی منڈیوں، صنعتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں بجٹ کے اثرات پر بحث جاری ہے۔ تاجروں، صنعتکاروں عام شہریوں نے بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، مہنگائی کے خدشات اور توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ پنجاب حکومت کے آئندہ بجٹ سے ریلیف کی توقعات وابستہ کر لی ہیں۔ آل پاکستان انجمن تاجران قائد اعظم گروپ کے چیئرمین وقار احمد میاں، چیئرمین لاہور ہول سیل کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن فاران سعید بٹ، پان منڈی ریلوے سٹیشن کے صدر آصف غوری منا، سینئر تاجر رہنما راجہ حسن اختر اور عمر قریشی نے روزنامہ ”مشرق“ لاہور سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ ان کا موقف ہے کہ پہلے ہی کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں جبکہ نئے ٹیکسز سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری مزید متاثر ہو سکتی ہے حکومت نے ریونیو بڑھانے کیلئے مختلف شعبوں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے جبکہ کاروباری برادری کو خاطر خواہ سہولتیں نہیں دی گئیں۔ ان کے مطابق اگر بجلی، گیس اور بینک فنانسنگ کے اخراجات کم نہ کیے گئے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گےرآمدی اشیاء پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں ردوبدل کے اثرات آنے والے ہفتوں میں سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق ڈالر کی قیمت میں معمولی اتار چڑھاو بھی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے جبکہ نئے مالیاتی اقدامات صارفین کی قوت خرید کو مزید کم کر سکتے ہیںصنعتی شعبے سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد نے بجٹ کو صنعتی ترقی کیلئے ناکافی قرار دیا۔ لاہور کی مختلف صنعتی انجمنوں کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت کو برآمدات بڑھانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور صنعتوں کو سستی توانائی فراہم کرنے کیلئے مزید اقدامات کرنے چاہئیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں پر ٹیکس بوجھ میں اضافے سے پیداواری لاگت بڑھے گی جس کا اثر براہ راست صارفین تک منتقل ہوگافیروز پور روڈ اور سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے صنعتکاروں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے نرخ پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اگر توانائی کے نرخوں میں مزید اضافہ ہوا تو مقامی صنعت عالمی منڈی میں مسابقت برقرار نہیں رکھ سکے گی دوسری جانب عام شہریوں نے بجٹ کے بعد مہنگائی میں اضافے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ گلبرگ، ٹاون شپ، اقبال ٹاون، جوہر ٹاون اور دیگر علاقوں میں کیے گئے عوامی سروے میں بیشتر شہریوں کا کہنا تھا کہ اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ، ادویات اور یوٹیلٹی بلز پہلے ہی ان کی آمدن کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکس اقدامات بالآخر صارفین پر منتقل ہوتے ہیں جس سے زندگی مزید مہنگی ہو جاتی ہے ایک سرکاری ملازم نے بتایا کہ تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کی رفتار کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ ان کے مطابق بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔ ایک گھریلو خاتون نے کہا کہ آٹا، گھی، چینی اور سبزیوں کی قیمتوں میں استحکام عام آدمی کی سب سے بڑی ضرورت ہے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس وصولی کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے ایماندار ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس چوری کی روک تھام کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری اخراجات میں کمی اور محصولات کی بہتر وصولی یقینی بنائی جائے تو عوام کو اضافی ٹیکسوں سے بچایا جا سکتا ہے دریں اثنا کاروباری حلقوں کی نظریں اب پنجاب حکومت کے آئندہ بجٹ پر مرکوز ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ صوبائی بجٹ میں کاروبار دوست اقدامات، انفراسٹرکچر کی بہتری، مارکیٹوں میں پارکنگ سہولتوں، سکیورٹی انتظامات اور کاروباری لائسنسنگ کے نظام میں آسانی پیدا کی جانی چاہیے صنعتکاروں نے پنجاب بجٹ میں صنعتی زونز کیلئے خصوصی مراعات، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام، ہنر مند افرادی قوت کی تربیت اور صنعتی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اگر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے عملی اقدامات کرے تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں عام شہریوں نے پنجاب بجٹ سے صحت، تعلیم، صاف پانی، پبلک ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی سہولیات کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی توقع ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے عوامی فلاحی پروگراموں کو بھی وسعت دی جانی چاہیے مجموعی طور پر وفاقی بجٹ پر کاروباری برادری اور عوام کا ردعمل محتاط اور ملے جلے رجحانات کا حامل ہے۔ جہاں حکومت مالیاتی استحکام اور ریونیو اہداف کے حصول کو اپنی ترجیح قرار دے رہی ہے، وہیں تاجر، صنعتکار اور شہری عملی ریلیف اور مہنگائی میں کمی کے منتظر ہیں۔ پنجاب بجٹ سے بھی یہی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور عام آدمی کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی لانے کیلئے مو¿ثر اقدامات متعارف کرائے گا۔
بجٹ کے بعد مہنگائی اور نئے ٹیکسوں پر عوامی تشویش، پنجاب بجٹ سے ریلیف کی امیدیں


















