لاہور (کامرس رپورٹر) وفاقی بجٹ 2026-27ءپیش ہونے کے بعد ملک بھر کی طرح لاہور کی مارکیٹوں، تجارتی مراکز اور صنعتی علاقوں میں بھی بجٹ کے اثرات پر بحث جاری ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ بجٹ معاشی استحکام، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کیلئے تیار کیا گیا ہے تاہم عوام، تاجروں اور صنعتکاروں کی ایک بڑی تعداد اسے مہنگائی اور ٹیکسوں کے اضافی بوجھ کا باعث قرار دے رہی ہے۔ کاروباری تنظیموں نے بجٹ کو ”جزوی ریلیف اور کئی ضائع شدہ مواقع“ کا مجموعہ قرار دیا ہے۔انارکلی، اچھرہ، ٹاو¿ن شپ اور گلبرگ کے مختلف علاقوں میں شہریوں سے گفتگو کے دوران بیشتر افراد نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے کچھ رعایتیں دی گئی ہیں لیکن روزمرہ استعمال کی اشیائ، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے باعث عام آدمی کو حقیقی ریلیف ملتا دکھائی نہیں دیتا۔سرکاری ملازم محمد عمران کا کہنا تھا کہ "تنخواہ پر ٹیکس میں اگر کچھ کمی بھی ہوئی ہے تو بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں تو فائدہ ختم ہو جائے گا۔گھریلو خاتون صائمہ بی بی نے کہا کہ ہمارا مسئلہ آٹا، چینی، گھی اور بچوں کی تعلیم ہے، اگر یہ چیزیں مہنگی ہوتی رہیں تو بجٹ ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہال روڈ، شاہ عالم مارکیٹ اور اردو بازار کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ بجٹ کے بعد درآمدی اشیاءکی لاگت بڑھنے کا خدشہ موجود ہے جس کے اثرات براہ راست صارفین تک منتقل ہوں گے۔ہال روڈ کے ایک الیکٹرانکس ڈیلر نے بتایا کہ کاروبار پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، اگر مزید ٹیکس لگے یا ڈالر مہنگا ہوا تو الیکٹرانکس مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ شاہ عالم مارکیٹ کے ایک تھوک تاجر نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات کی گئی ہے لیکن عملی طور پر بوجھ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر ہی ڈالا جا رہا ہے۔ مختلف تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت نے کچھ شعبوں کو مراعات دی ہیں لیکن کاروباری لاگت میں کمی کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ کاروباری رہنماو¿ں کے مطابق صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بجٹ میں واضح وژن نظر نہیں آتا جبکہ توانائی کی بلند لاگت بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے۔تاجروں کا کہنا تھا کہ اگر کاروبار پر اضافی مالی دباو برقرار رہا تو نئی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور روزگار کے مواقع بھی محدود رہیں گے۔کوٹ لکھپت اور سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے صنعتکاروں نے بجٹ پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صنعتی ترقی اور برآمدات کیلئے کچھ اقدامات ضرور کئے ہیں تاہم پیداواری لاگت میں کمی کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ایک ٹیکسٹائل صنعتکار نے کہا کہ برآمدات کیلئے بعض ٹیکسوں میں کمی مثبت قدم ہے لیکن بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کئے بغیر عالمی منڈی میں مقابلہ مشکل رہیگا۔ بجٹ میں برآمدی شعبے کیلئے بعض ٹیکس مراعات اور ریلیف اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے مہنگائی کی شرح تقریباً 8 فیصد کے قریب رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم تیل کی عالمی قیمتوں، ٹیکس اہداف اور محصولات بڑھانے کے اقدامات کے باعث مہنگائی پر دباو¿ برقرار رہ سکتا ہے۔شہریوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے نرخ بڑھے تو اشیائے خورونوش سمیت تمام ضروریات زندگی مہنگی ہو جائیں گی۔مارکیٹ سروے کے دوران تاجروں نے بتایا کہ بجٹ کے فوری بعد خریدار محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر خریداری موخر کر دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ابتدائی دنوں میں کاروباری سرگرمیوں میں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔دوسری جانب بعض صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں نے پراپرٹی اور برآمدی شعبے کیلئے اعلان کردہ چند مراعات کو مثبت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ان سے محدود پیمانے پر سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔عوام کی اکثریت وفاقی بجٹ 2026-27ءکو مکمل ریلیف پیکیج کے طور پر نہیں دیکھ رہی۔ شہری مہنگائی میں اضافے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ دکاندار اور تاجر نئے ٹیکسوں اور کاروباری لاگت میں اضافے پر تشویش رکھتے ہیں۔ صنعتکاروں کا مو¿قف ہے کہ برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے مزید عملی اقدامات درکار ہیں۔ مجموعی طور پر بجٹ کو عوامی سطح پر ”جزوی ریلیف اور اضافی مالی دباو¿“ کے امتزاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ اس کے حقیقی اثرات آئندہ چند ماہ میں قیمتوں اور کاروباری سرگرمیوں کی صورت میں واضح ہوں گے۔
بجٹ مہنگائی اور ٹیکسوں کے اضافی بوجھ کا مجموعہ ہے: تاجر رہنما ، گرانی مزید بڑھے گی: شہریوں کی دہائی



















