نیویارک (مشرق نیوز) حال ہی میں کئے گئے ٹرائل میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک نئی کینسر کیلئے استعمال کیا جانے والا انجکشن ایسے مریضوں میں بھی حیران کن نتائج دکھا سکتا ہے جن کیلئے علاج کی امیدیں تقریباً ختم ہو چکی ہوں۔
امیونٹیمب نامی ٹرپل ایکشن انجکشن جو پہلے ہی بعض مریضوں کیلئے دستیاب ہے، ایسے پروٹین اور انزائم کی نمو کو روکتا ہے جو کینسر کے ٹیومرز کو مدافعتی نظام سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ سفید خون کے خلیات کو بھی متحرک کرتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیات کو زیادہ موثر انداز میں ختم کر سکیں۔
تحقیق میں یہ انجکشن 102 ایسے افراد پر آزمایا گیا جو سر اور گردن کے لاعلاج کینسر میں مبتلا تھے۔ انجکشن کے استعمال کے بعد 42 فی صد مریضوں میں ٹیومرز سکڑ گئے۔ سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ 15 مریضوں میں (جہاں دیگر تمام ادویات ناکام ہو چکی تھیں) ٹیومرز مکمل طور پر ختم ہوگئے۔
سر اور گردن کے کینسر میں زبان، گلے اور منہ کے مختلف حصوں کے ٹیومرز شامل ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں یہ کینسر کی نویں سب سے عام قسم ہے اور ہر سال تقریباً 13 ہزار افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ کیون ہیرنگٹن نے کہا کہ یہ ایسے مریضوں میں غیرمعمولی نتائج ہیں جن کا مرض کیموتھراپی اور امیونوتھراپی دونوں کے خلاف مزاحمت اختیار کر چکا تھا۔ اس گروپ کے لیے علاج کے مواقع انتہائی محدود ہوتے ہیں، اس لیے اتنا واضح فائدہ دیکھنا نہایت حوصلہ افزا ہے۔
کینسر کے موذی مرض کیخلاف انجکشن سے متعلق حوصلہ افزا انکشاف


















