موثر حکومتی اقدامات بھی بیکار، خواتین، بچوں سے جنسی جرائم کی وارداتیں تھم نہ سکیں

لاہور(مرزا ندیم بیگ)صوبائی دارالحکومت لاہور میں سال 2025 کے دوران جنسی جرائم کی وارداتیں نہ رک سکیں، خواتین، بچے اور بچیاں وزیر اعلیٰ پنجاب کی ریڈ لائن قرار دئیے جانے کے باوجود درندگی کا نشانہ بنتے رہے۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں لاہور بھر میں خواتین، بچوں اور بچیوں سے جنسی درندگی اور اجتماعی جنسی درندگی کے مجموعی طور پر 1496 واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں اجتماعی جنسی درندگی کے 97 واقعات سامنے آئے۔ ان واقعات میں کینٹ ڈویژن 26 واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ صدر ڈویژن 21 واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ماڈل ٹاون ڈویژن 16 واقعات کے ساتھ تیسرے، سٹی ڈویژن 14 کے ساتھ چوتھے، اقبال ٹاون ڈویژن 13 کے ساتھ پانچویں اور سول لائن ڈویژن 7 واقعات کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں خواتین سے جنسی درندگی کے 783 واقعات رپورٹ ہوئے۔ خواتین کیخلاف جنسی جرائم میں صدر ڈویژن 196 واقعات کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ کینٹ ڈویژن 174 واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ماڈل ٹاون ڈویژن 169 واقعات کیساتھ تیسرے جبکہ اقبال ٹاون اور سٹی ڈویژن 88، 88 واقعات کے ساتھ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے۔ سول لائن ڈویژن 68 واقعات کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا۔بچوں سے بدفعلی کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک رہی۔ سال 2025 میں بچوں سے بدفعلی کے 616 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں کینٹ ڈویژن 181 واقعات کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا جبکہ صدر اور ماڈل ٹاون ڈویژن 119، 119 واقعات کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔سٹی ڈویژن 92 واقعات کے ساتھ چوتھے، اقبال ٹاون ڈویژن 67 واقعات کے ساتھ پانچویں اور سول لائن ڈویژن 38 واقعات کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا۔انویسٹی گیشن ونگ کے جینڈر کرائم سیل کے ذرائع کے مطابق 75 فیصد مقدمات کے چالان مکمل کرلئے گئے ہیں، جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کر کے عدالتوں سے سخت سزائیں دلوائی جائیں گی۔