مقدمات میں ذات، برادری، مذہب نہ لکھا جائے،سپریم کورٹ کابڑا فیصلہ


اسلام آباد:(بیورورپورٹ)انسانی وقار بنیادی حق، مقدمات میں ذات، برادری، مذہب نہ لکھا جائے،سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ ،قتل کے مجرم کی عمر قید کم کرکے 15 سال کر دی۔

سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میںانسانی وقار، برابری و امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے اہم آبزرویشنز دیتے ہوئے کہا کسی بھی شخص کو تبدیلی مذہب کی بنیاد پر الگ ظاہر کرنا غیر قانونی ، انسانی وقار کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے، پولیس ریکارڈ میں ذات پات کے سابقے یا لاحقے لگانا آئین کے منافی ہے،آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو برابری و یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا جبکہ آرٹیکل 26 کسی بھی قسم کے امتیاز کو روکتا ہے

عدالت عظمیٰ نے کہا شہروں کو رہنے کے قابل بنانے والوں کو کم تر سمجھنا اخلاقی ناکامی ہے،تمام آئی جیز ،بالخصوص اسلام آباد پولیس کو ہدایت ہے ایف آئی آر میں ذات پات ، برادری کا ذکر نہ کیا جائے،گرفتاری میمو، برآمدگی رپورٹ ،چالان میں بھی کسی کی ذات یا قبائلی شناخت درج نہیں کی جائے گی، پولیس ریکارڈ میں کسی کی حیثیت یا تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال ممنوع ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا ذات کا ذکر صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب تفتیشی افسر کے پاس ٹھوس وجوہات موجود ہوں، پولیس کا ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ کے نام کےساتھ ”نو مسلم شیخ” کا لفظ استعمال کرناغیر مناسب تھا۔