واشنگٹن:(بیورورپورٹ) طالبان رجیم کی حکمرانی کے مضر اثرات میں پاکستان سرفہرست ،بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کی حکمرانی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ،طالبان کی بھرپور سفارتی حمایت کے باوجود پاکستان کی سلامتی صورتحال بگڑتی گئی،2021 میں طالبان کی واپسی کو پاکستان نے خطے میں استحکام کا موقع سمجھا مگرنتائج برعکس نکلے ،پاکستان کو دہشتگردی کی نئی لہرکا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی جریدے کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان کے دہشتگرد بدستور سرگرم ہیں، افغان سرزمین مسلسل پاکستان کےخلاف دہشتگردی کےلئے استعمال ہو رہی ہے ،سرحد پار حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگرد سب سے زیادہ ملوث ہیں،دہشتگردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت 70 فیصد تک جاپہنچی۔
رپورٹ کے مطابق بھارت نے کابل میں دوبارہ سفارتی موجودگی قائم کرکے طالبان قیادت سے روابط کو تیزی سے وسعت دی ،طالبان ،بھارت کے بڑھتے روابط پاکستان کےلئے خطرے کے طور پر ابھر رہے ہیں، دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان 80 ہزار زائد جانوں کی قربانی دے چکا ،پاکستان نے ابتدا میں تصادم کی بجائے مکالمے، ثالثی اور علاقائی سفارت کاری کو ترجیح دی، دو طرفہ بات چیت، مذہبی ثالثی اور علاقائی سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی گئی۔
عالمی جریدے نے کہا متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی سرحدی علاقوں سے منتقلی پر اتفاق ہوا مگر وعدوں کے باوجود طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کےخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی،وعدوں پرعمل نہ ہونے کے باعث پاکستان نے مکالمے کے ساتھ محدود عسکری کارروائی کی حکمت عملی اپنائی، ستمبر ، اکتوبر 2025 میں افغانستان میں سرگرم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا،پاکستان نے پھر بھی سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔
افغان طالبان رجیم کی حکمرانی کے مضر اثرات میں پاکستان سرفہرست



















