نیویارک: (خواجہ فاروق)سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکہ،ایران کے ایک دوسرے پر وار،تہران نے جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب کی دھمکی دےدی۔
امریکی مندوب مائیک والٹز نے خبردار کیا ایران میں قتل و غارت روکنے کیلئے تمام آپشنز زیر غور ہیں،امریکہ ایران کے بہادر عوام کےساتھ کھڑا، تشددو جبر سے عالمی امن پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایران کی جانب سے حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی فنڈنگ ،مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی، صدر ٹرمپ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔
مائیک والٹز نے کہا ایران میں سر نہ ڈھانپنے پر خاتون کو قتل کر دیا گیا ،ایرانی حکومت کمزور ہو گئی، ایران بات چیت کا کہتا مگر عمل کچھ اور کرتا ہے، طرز عمل مذاکرات کے برعکس ہے، صدر ٹرمپ نے ایران کیخلاف تمام آپشن کھلے رکھے ہیں۔
ایرانی مندوب غلام درزی نے ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی رجیم قراردیتے ہوئے کہاکشیدگی یا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں لیکن جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا،8،10 جنوری کے دوران ایران نے داعش طرز کی دہشتگردی کا سامنا کیا، ایران میں منظم طور پر سر قلم کیے گئے، لوگوں کو زندہ جلایا ، سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر مداخلت کا بہانہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
غلام درزی نے کہا ایران کےخلاف کسی بھی مقصد کے تحت طاقت کے استعمال کی دھمکی، چاہے مظاہرین کے تحفظ یا عوام کی حمایت کے بہانے ہی کیوں نہ ہو، بین الاقوامی قانون ،اقوام متحدہ چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، انسانی ہمدردی کے بہانے طاقت کو جائز ٹھہرانا بین الاقوامی قانون کا جان بوجھ کر غلط استعمال ہے،براہ راست ہو یا بالواسطہ جارحانہ عمل کا جواب فیصلہ کن ،قانونی طور پر آرٹیکل 51 کے تحت دیا جائے گا، کوئی دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی بیان ہے،سلامتی کونسل کی واضح، اخلاقی، سیاسی اور قانونی ذمہ داری ہے غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر مسترد کرے۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا اقوام متحدہ کا چارٹر طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے،ایران ، خطے کی صورتحال پر تشویش ،مستحکم و پر امن ایران پاکستان کے مفاد میں ہے،صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہے ، ایران کےساتھ دیرینہ تعلقات ہیں،امید کرتے ہیں ایران میں حالات معمول پر آجائیں گے، مسائل کے حل کیلئے پاکستان سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، سفارت کاری و مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے،عالمی قوانین کا خیال رکھتے ہوئے فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
برطانوی مندوب نے کہا ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ، متعدد گرفتار ہونے کی رپورٹس تشویشناک ہیں، حکومت نے انٹرنیٹ بند کیا، ویڈیوز خوفناک حقیقت ظاہر کر رہی ہیں، مظاہروں کو غیر ملکی حمایت یافتہ کہنا جھوٹ ہے،ایرانی عوام، خواتین بہادری اور وقار کےساتھ آزادی کے حق میں آواز بلند کر رہی ہیں، ایران عوام کے بنیادی حقوق ،احتجاج کے حق کا احترام کرے،روسی مندوب نے کہاایران کیخلاف امریکی طاقت کے استعمال و دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں، ایران میں بیرونی مداخلت عالمی امن کیلئے خطرہ ہے،کشیدگی کم کرنے کیلئے تمام فریق بات چیت سے حل نکالیں، اقتصادی پابندیاں و دھمکیوں کی پالیسی غیر منصفانہ،نقصان دہ ہے، عالمی قوانین ،خودمختاری کا احترام ضروری ، تشدد ،فوجی دباو کی بجائے سفارت کاری ،مکالمہ ہی حل ہے۔
روسی مندوب نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا سلامتی کونسل کا اجلاس سرکس سے زیادہ کچھ نہیں، اجلاس بلانا شرمناک ہے،بیرونی قوتیں ایران میں موجودہ حالات کو بڑھاوا دے رہی ہیں،شہریوں ،املاک کا تحفظ ایرانی حکومت کی ترجیح ہے،امریکہ کی جانب سے ایرانی عوام کو کہا گیا اداروں پرقبضہ کرلیں، بیانات کسی بھی ملک کی سالمیت کےخلاف ہیں،سپریم لیڈر ،حکومت کی حمایت میں وسیع پیمانے پرلوگ نکلے،امریکی کارروائی سے خطہ مزید بحران کاشکار ہوجائے گا۔
چینی مندوب نے کہا ایران و دیگر فریقین کو غیر ضروری اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، تمام مسائل کو بین الاقوامی قانون و اصولوں کے مطابق حل کیا جائے،چین خطے میں مسائل کے پرامن حل کیلئے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرے گا، فریقین کشیدگی کم کرنے ،اعتماد کی بحالی کیلئے بات چیت کریں،انسانی جانوں ،بنیادی حقوق کی حفاظت ترجیح ہونی چاہیے، عالمی برادری ملکر بحران کے سیاسی و سفارتی حل کی کوششیں تیز کرے۔
یونانی مندوب نے کہا خطے میں کشیدگی انسانی جانوں کیلئے خطرہ ہے، تمام فریق صبر و تحمل سے کام لیں اور بات چیت کو ترجیح دیں، انسانی حقوق کے تحفظ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے،سفارتی حل ،بین الاقوامی تعاون ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے، عالمی برادری کو یکجا ہو کر کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
ڈنمارک کے مندوب نے کہا ایران میں جاری کشیدگی خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، تمام فریق صبر و تحمل سے کام لیں، انسانی حقوق ،شہریوں کی حفاظت ترجیح ہونی چاہیے،اختلافات کو بات چیت ،سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، غیر ضروری فوجی دباو¿ ،دھمکیوں سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں، عالمی برادری خطے میں استحکام کیلئے متحد کردار ادا کرے۔
سلامتی کونسل میں امریکہ،ایران کے ایک دوسرے پر وار



















