پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں اہم مرحلے میں داخل ہوگیا: وزیر خزانہ

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر اورنگزیب نے کہا پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں اہم مرحلے میں داخل ہوگیا، بین الاقوامی طورپر ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق سرگرمیوں میں پاکستان فعال ملک کے طورپرشامل ہے، مواقع اور خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کےلئے ضابطہ کاری ناگزیر ہے،وزیر خزانہ نے آئی کوائن ٹیکنالوجی کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہاپاکستانی شہریوں کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ،مواقع اور خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کےلئے ضوابط ناگزیر ہیں، تشکیل پانے والا پالیسی فریم ورک مارکیٹ کے شرکا کو واضح رہنمائی فراہم کرنے، بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ ہونے اور سٹیٹ بینک سمیت تمام متعلقہ ریگولیٹرز کے درمیان ہم آہنگی یقینی بنانے کےلئے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ منظم مارکیٹ ترقی اور ادارہ جاتی شمولیت ممکن ہو سکے،چیٹ سلویستری نے امریکہ اور کینیڈا کی مارکیٹوں کے تجربات کی روشنی میں اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور بینکوں، ایکسچینجز اور بڑے صارفین پر مشتمل پلیٹ فارمز کےساتھ آئی کوائین ٹیکنالوجی کے کام کا حوالہ دیا،انہوں نے وضاحت کی ترقی یافتہ مارکیٹوں میں ریگولیٹری وضاحت نے روایتی مالیاتی اداروں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بنیادی بینکاری نظام کو ازسر نو تشکیل دیے بغیر موجودہ انفراسٹرکچر کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ ہو سکیں،انہوں نے والٹ پر مبنی مڈل ویئر اور سوئچنگ ٹیکنالوجیز کے کردار پر بھی روشنی ڈالی جو بینکوں کو ایکسچینجز کے ساتھ محفوظ انداز میں منسلک کرنے، لیکویڈیٹی کے انتظام، تعمیل کو بہتر بنانے اور صارفین کو ان کی مانوس بینکاری ایپس کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثہ جاتی خدمات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں،وفد نے اس بات پر زور دیا بلاک چین ٹیکنالوجی اور سٹیبل کوائنز مالیاتی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ تیز تر، کم لاگت اور زیادہ شفاف لین دین کو ممکن بناتے ہیں جبکہ ریگولیٹری نگرانی بھی برقرار رہتی ہے،ملاقات میں آئی کوائن کی عالمی سرگرمیوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا ،وزیر خزانہ نے کہا پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جاتی ایکو نظام کی تشکیل کے ابتدائی مگر اہم مرحلے میں ہے ،ہم قومی ترجیحات سے ہم آہنگ علم کے تبادلے اور ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔