لاہور (نعیم جاوید/عکاسی: شاہ نواز)حکومتی اعلان کے باوجود لاہور شہر میں 10 اور 20 کلو آٹے کے سرکاری تھیلے تاحال دستیاب نہیں ہو سکے جبکہ 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1800 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔روز نامہ مشرق نے شہر کے مختلف علاقوں کے مکینوں نے آٹے کی عدم دستیابی اور مہنگائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض دکانداروں نے ”مشرق“ کی ٹےم دےکھ کر آٹا دستےاب ہے، انہوں کہا کہ جبکہ گلبرگ مےن مارکےٹ کے رہاشی بابا مجےب عامر پلمبر اور نعےم بورنگ والے نے کہنا ہے کہ علاقے کی کسی دکان پر 10 اور 20 کلو کا سرکاری آٹا نظر نہیں آتا۔ ہم روز دکانوں کے چکر لگاتے ہیں، مگر ہر جگہ ایک ہی جواب ملتا ہے کہ سرکاری آٹاتھا آیا ہی نہیں۔ مجبوراً مہنگا آٹا خریدنا پڑتا ہے۔ ٹاون شپ اور گرین ٹاﺅن کے مکینوں نوےد، شاداب نے نے شکایت کی ہے کہ 15 کلو آٹے کا تھیلا 1850 سے 1900 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ گرین ٹاون کی رہائشی شازیہ بی بی کا کہنا ہے کہ گھر کا بجٹ پہلے ہی بجلی اور گیس نے خراب کر رکھا ہے، اب آٹے نے بھی جینا مشکل کر دیا ہے۔ شادمان اور ماڈل ٹاون کے علاقوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ گلبرگ کے ایک شہری آصف محمود کے مطابق “قیمتیں سرکاری لسٹ سے کہیں زیادہ ہیں، مگر پوچھنے والا کوئی نہیں۔ انتظامیہ کی چیکنگ نظر نہیں آتی۔”سبزہ زار، اقبال ٹاون اور مسلم ٹاون کے رہائشیوں اسلم،اکرم،حارس کا کہنا ہے کہ اگر آٹا آتا بھی ہے تو چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ سبزہ زار کے رہائشی عدنان نے بتایا کہ “صبح آٹھ بجے آٹا آتا ہے اور دس بجے تک ختم ہو جاتا ہے، عام آدمی لائن میں لگ کر بھی خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ راوی روڈ، شاہدرہ اور کوٹ لکھپت کے مکینوں شاہد،جاوےد۔مسلم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلور ملز اور آٹا ڈیلرز کی سخت مانیٹرنگ کی جائے۔ شاہدرہ کے رہائشی ریاض احمد کے مطابق اگر حکومت واقعی ریلیف دینا چاہتی ہے تو سرکاری آٹے کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنانا ہوگی، ورنہ عوام کا اعتماد ختم ہو جائیگا۔ شہریوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ 10 اور 20 کلو آٹے کے تھیلے فوری طور پر مارکیٹ میں لائے جائیں، 15 کلو آٹے کی قیمت کو 1800 روپے سے نیچے لایا جائے اور ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔آٹے کا معےار درست کےا جائے۔15کلو والے تھیلے پر پابندی لگائی جائے۔
سستا آٹا خواب،10،20کلو کاتھیلا ناپید،غریب رل گئے،شہری مشرق سروے میں پھٹ پڑے



















