لاہور (مشرق نیوز) اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر قانونی جنگ جاری رکھے گا اور بھارت کو قانونی طور پر معاہدے کی پاسداری کرنے کا پابند بنانے کی کوشش کرے گا۔
لاہور میں انڈس واٹرز ٹریٹی اینڈ نیشنل سکیورٹی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا، جس کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معاہدے سے انحراف یا اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بھارت کا موجودہ رویہ پوری دنیا کے سامنے ہے اور پاکستان کو اس حوالے سے شدید تحفظات ہیں، موجودہ عالمی تناظر میں پاکستان کی جانب سے امن کیلئے کی جانے والی کوششیں بھی دنیا کے سامنے ہیں۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحفظ اور اس پر عمل درآمد کیلئے قانونی راستہ اختیار کرتا رہے گا اور بھارت کو معاہدے کی پاسداری کا پابند بنانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ منصور اعوان نے کہا کہ پاکستان اپنی زراعت کیلئے تقریباً 90 فیصد پانی آبپاشی کے نظام کے ذریعے استعمال کرتا ہے، اس لیے پانی کے بہاو¿ میں معمولی سی رکاوٹ یا کمی بھی ملک کے زرعی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، پانی کا مسئلہ صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری کو متاثر کرتا ہے، اس لیے پانی کے وسائل کا تحفظ قومی اہمیت کا معاملہ ہے۔
اٹارنی جنرل نے پانی کے تحفظ کے حوالے سے ملکی اقدامات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معاہدے سے انحراف یا اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بھارت کا موجودہ رویہ پوری دنیا کے سامنے ہے اور پاکستان کو اس حوالے سے شدید تحفظات ہیں، موجودہ عالمی تناظر میں پاکستان کی جانب سے امن کیلئے کی جانے والی کوششیں بھی دنیا کے سامنے ہیں۔
بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گے: اٹارنی جنرل


















