آذر بائیجانی خاتون کی پنجاب اسمبلی میں آمد سوالیہ نشان

لاہور (میاں ساجد سے) پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان کی ہدایات پر پنجاب اسمبلی کو طلبہ و طالبات سمیت عام شہریوں کیلئے تعلیمی اور مطالعاتی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں تاہم آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا کی پنجاب اسمبلی آمد کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو کے بعد اس بات کی تحقیقات اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ خاتون کس ذریعے، ریفرنس یا دعوت پر اسمبلی سیکرٹریٹ پہنچی تھیں۔ ترجمان پنجاب اسمبلی راو ماجد علی نے واضح کیا ہے کہ حتمی شواہد سامنے آنے تک کسی رکن اسمبلی، افسر یا اہلکار کو خاتون کی اسمبلی آمد کا ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ترجمان پنجاب اسمبلی راو ماجد علی کے مطابق سپیکر ملک محمد احمد خان کی خصوصی ہدایات پر پنجاب اسمبلی میں سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کیلئے باقاعدہ سیشنز، سیمینارز اور مکالموں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو پارلیمانی نظام، قانون سازی، اسمبلی کی کارروائی اور منتخب ارکان کے آئینی و جمہوری کردار سے آگاہ کیا جاسکے۔ تعلیمی اداروں کو پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ سے رابطہ کرکے مطالعاتی دوروں کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے اور مختلف تعلیمی اداروں کے وفود پنجاب اسمبلی کا دورہ کر چکے ہیں، جن کا باقاعدہ ریکارڈ سیکرٹریٹ میں موجود ہے۔راو¿ ماجد علی نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں آنے والے مہمانوں، وفود اور مختلف سرگرمیوں میں شریک افراد کے حوالے سے سکیورٹی اور انٹری کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کے خصوصی مہمانوں اور ان کے ہمراہ آنے والے وفود کی بھی انٹری ریکارڈ کی جاتی ہے، جبکہ اسمبلی ارکان، افسران اور دیگر متعلقہ حکام کے مہمانوں کی آمد کے حوالے سے بھی ریکارڈ اور سکیورٹی پروٹوکول موجود ہیں۔انہوں نے آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا کی پنجاب اسمبلی آمد کے حوالے سے کہا کہ سامنے آنے والی فوٹیج کی بنیاد پر اس وقت یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کس رکن اسمبلی، افسر، اہلکار یا کسی دوسرے ذریعے کے ریفرنس سے اسمبلی سیکرٹریٹ پہنچی تھیں۔ ان کے مطابق اس بارے میں حتمی حقیقت خاتون کے بیان، سکیورٹی ریکارڈ، انٹری رجسٹر، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں سامنے آسکتی ہے۔ترجمان پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ڈیانا کے حوالے سے درج ایف آئی آر کی تحقیقات پنجاب پولیس کے انویسٹی گیشن ونگ کی ذمہ داری ہے، جس میں متعلقہ شواہد کی روشنی میں یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ خاتون لاہور میں کن افراد سے رابطے میں تھیں اور پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ تک ان کی رسائی کس ذریعے سے ہوئی۔ پولیس تفتیش کے دوران اگر اسمبلی کے ریکارڈ سے کسی رکن اسمبلی، افسر یا اہلکار کی جانب سے خاتون کو داخلے کی اجازت دینے یا ان کی آمد میں معاونت کی تصدیق ہوتی ہے تو معاملہ مزید واضح ہوسکتا ہے۔راو¿ ماجد علی نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں سپیکر کے خصوصی مہمانوں اور ملاقات کیلئے آنے والے وفود کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ تاہم ڈیانا کی اسمبلی آمد کے حوالے سے حتمی معلومات تحقیقات اور دستیاب شواہد سامنے آنے کے بعد ہی فراہم کی جاسکتی ہیں۔ترجمان کے مطابق اسمبلی سیکرٹریٹ میں فرائض انجام دینے والے افسران اور سٹاف کیلئے بھی سکیورٹی اور داخلے کے ضوابط موجود ہیں اور کسی بھی شخص کی آمد و رفت کو متعلقہ سکیورٹی طریقہ کار کے تحت ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ارکان اسمبلی کے مہمانوں کی آمد کے حوالے سے متعلقہ رکن ہی بہتر طور پر بتاسکتے ہیں کہ انہوں نے کس شخص کو ملاقات یا کسی دیگر مقصد کیلئے مدعو کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ڈیانا کی پنجاب اسمبلی آمد کے معاملے میں اس وقت کسی رکن پنجاب اسمبلی، افسر یا اہلکار کو مورد الزام ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔ جب تک پولیس تحقیقات، سی سی ٹی وی فوٹیج، انٹری ریکارڈ اور دیگر شواہد سے کسی فرد کا کردار ثابت نہ ہوجائے، کسی نام کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں۔ حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی تفتیش اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جاسکے گا۔ راو ماجد نے مزید کہا کہ معاملے کی مکمل حقیقت جاننے کیلئے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کے داخلی و سکیورٹی ریکارڈ، وزیٹر انٹری، متعلقہ دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج، خصوصی مہمانوں اور وفود کے ریکارڈ سمیت دیگر دستیاب شواہد کا جائزہ اہم ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ پولیس کی جاری تحقیقات میں خاتون ڈیانا کا بیان بھی معاملے کی کڑیاں ملانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔