لاہور چیمبر کی نئی قیادت کیلئے کئے گئے وعدوں کو عملی شکل دینا اہم امتحان

لاہور (نعیم جاوید) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی نئی قیادت علی حسام اصغر، سردار عثمان غنی اور خادم حسین کیلئے پہلے 100 دن میں کاروباری برادری سے کئے گئے انتخابی وعدوں کو عملی شکل دینے کے حوالے سے اہم قرار دئیے جا رہے ہیں۔ علی حسام اصغر صدر، سردار عثمان غنی سینئر نائب صدر اور خادم حسین نائب صدر منتخب ہوئے ہیں۔ تینوں عہدیدار بلا مقابلہ منتخب ہوئے نئی قیادت نے انتخابی عمل کے دوران کاروباری برادری کے اہم مسائل، خصوصاً ٹیکس اصلاحات، کاروباری لاگت میں کمی، توانائی کے نرخ، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی سہولت، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات بڑھانے کے معاملات کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ اب کاروباری حلقوں کی نظریں اس امر پر ہیں کہ علی حسام اصغر کی سربراہی میں چیمبر ان وعدوں کو کس طرح عملی ایجنڈے میں تبدیل کرتا ہے نئی قیادت کیلئے فوری طور پر ٹیکس نظام میں اصلاحات کا معاملہ اہم ہوگا۔ کاروباری برادری ایف بی آر کے ساتھ ٹیکس نظام کو آسان بنانے، غیر ضروری کاغذی کارروائی کم کرنے، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور کاروباری طبقے کو درپیش ٹیکس مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی توقع کر رہی ہے۔ اس حوالے سے صدر علی حسام اصغر کی سربراہی میں چیمبر کو حکومت کے سامنے شعبہ وار اور قابل عمل تجاویز پیش کرنا ہوں گی توانائی کی بلند لاگت بھی نئی قیادت کے فوری ایجنڈے میں شامل ہوگی۔ سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی کیلئے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے بجلی و گیس کے نرخ، صنعتی ٹیرف، اضافی چارجز اور توانائی کی دستیابی کے مسائل متعلقہ حکومتی اداروں تک پہنچانا اہم چیلنج ہوگا کاروباری لاگت کم کرنے کے وعدے کے تحت نئی قیادت سے یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ خام مال، بجلی، گیس، ٹیکس، فنانسنگ اور دیگر پیداواری اخراجات کا شعبہ وار جائزہ لے کر حکومت کو ٹھوس سفارشات دی جائیں گی۔ لاہور چیمبر ماضی میں بھی صنعتی لاگت، ٹیکس اور توانائی کے معاملات پر حکومت کے سامنے سفارشات پیش کرتا رہا ہے۔ ایس ایم ایز کے حوالے سے نائب صدر خادم حسین کیلئے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے مسائل کو چیمبر کے پالیسی ایجنڈے میں نمایاں کرنے کا اہم کردار ہوگا۔ آسان قرضوں، ٹیکس و قانونی رہنمائی، کاروباری رجسٹریشن، سرکاری اجازت ناموں اور برآمدی سہولت کیلئے خصوصی سہولت کاری نظام قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور لائی جاسکتی ہے برآمدات بڑھانے کیلئے نئی قیادت کو وزارت تجارت، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنا ہوگا۔ برآمد کنندگان کے ریفنڈز، پیداواری لاگت، ٹیکس نظام، غیر محصولاتی رکاوٹوں اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حکومت کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہوگی ذرائع کے مطابق نئی قیادت اگر پہلے 100 دن کو واضح اہداف کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے تو ابتدائی 30 دن میں کاروباری برادری کے مسائل کا شعبہ وار ڈیٹا، 60 دن میں وفاقی و صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات اور 100 دن میں چند اہم مطالبات پر پیش رفت کا ہدف مقرر کیا جاسکتا ہے اس مقصد کیلئے صدر علی حسام اصغر کی سربراہی میں ٹیکس، توانائی، ایس ایم ایز اور برآمدات کیلئے الگ الگ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جاسکتے ہیں، جبکہ سردار عثمان غنی اور خادم حسین کو متعلقہ شعبوں کے ساتھ رابطہ کاری کی ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں۔ ہر مطالبے کے ساتھ متعلقہ حکومتی ادارہ، مطلوبہ فیصلہ، مذاکرات کی تاریخ اور پیش رفت کی نگرانی کا طریقہ کار طے کرنا بھی ضروری ہوگاکاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ نئی قیادت کیلئے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو عملی پالیسی تجاویز، حکومتی مذاکرات اور مقررہ مدت کے اہداف میں تبدیل کرنا ہوگا۔ لاہور چیمبر کی نئی قیادت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پہلے 100 دن کا باقاعدہ روڈ میپ جاری کرکے کاروباری برادری کو بتایا جائے کہ علی حسام اصغر، سردار عثمان غنی اور خادم حسین کی قیادت میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے نرخ، کاروباری لاگت، ایس ایم ایز اور برآمدات کے حوالے سے کون سے مطالبات کب حکومت کے سامنے اٹھائے جائیں گے اور ان پر ہونے والی پیش رفت سے اراکین کو کس طرح آگاہ کیا جائے گا۔