لاہور (خبرنگار) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے تجاوزات سے پاک لاہور کے خواب کو میٹروپولیٹن انتظامیہ کی مبینہ غفلت نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ باغبانپورہ اور سنگھ پورہ بازاروں میں تجاوزات برقرار رکھنے کے عوض مبینہ ”منتھلی سسٹم“ کی نشاندہی ہوئے کئی روز گزر گئے مگر نہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے کوئی مو¿ثر کارروائی سامنے آئی، نہ چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے انکوائری ضروری سمجھی اور نہ ہی متعلقہ ایم او آر کی سطح پر ذمہ داروں کے خلاف کوئی تادیبی قدم اٹھایا گیا۔ انتظامیہ کی یہ خاموشی اس سوال کو مزید گہرا کر رہی ہے کہ وزیراعلیٰ کے واضح احکامات کے باوجود لاہور کے بازاروں میں تجاوزات کا مافیا آخر کس کی مبینہ سرپرستی میں سرگرم ہے۔ چند روز قبل "مشرق" میں انکشاف کیا گیا تھا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے شالیمار زون کے باغبانپورہ اور سنگھ پورہ بازاروں میں تجاوزات ختم کرنے کے بجائے انہیں برقرار رکھنے کے عوض مبینہ طور پر تقریباً چھ لاکھ روپے ماہانہ اکٹھے کیے جانے اور مبینہ وصولی میں زونل افسر ریگولیشن کے کار خاص شیراز کے کردار کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جوادالحسن گوندل کے قریبی سمجھے جانے والے افسر شہزاد رسول کے پاس شالیمار زون سمیت متعدد زونز کا اضافی چارج ہے اور مبینہ وصولیوں کیلئے ایک مخصوص نیٹ ورک کے ذریعے معاملات چلائے جا رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اتنے سنگین الزامات کی نشاندہی کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے کسی فوری انکوائری یا فیکٹ فائنڈنگ کے احکامات سامنے نہیں آئے، جبکہ چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن بھی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے بظاہر متحرک دکھائی نہیں دئیے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی خاموشی نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے بجائے بعض مقامات پر انہیں برقرار رکھنے کا مبینہ نظام مضبوط ہو چکا ہے۔دفتری ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ”تجاوزات سے پاک لاہور“ پالیسی کا اصل امتحان پریس ریلیز، آپریشن کی تصاویر اور سرکاری بیانات میں نہیں بلکہ لاہور کے ان بازاروں میں ہے جہاں شہری روزانہ تجاوزات کے باعث مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر باغبانپورہ اور سنگھ پورہ جیسے کیسز میں مبینہ منتھلی سسٹم کی نشاندہی کے باوجود متعلقہ افسران سے جواب طلبی نہیں ہوتی تو اس سے زیرو ٹالرنس پالیسی کی عملی حیثیت کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے خواب کو سبوتاڑ کرنے والے صرف سڑکوں پر قبضہ کرنے والے ریڑھی بان نہیں بلکہ وہ عناصر بھی ہیں جو مبینہ طور پر سرکاری اختیارات استعمال کرتے ہوئے تجاوزات کو تحفظ دیتے ہیں۔ اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر ڈپٹی کمشنر لاہور، چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن اور متعلقہ ایم او آر کی نگرانی میں ہونے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے، مبینہ وصولیوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار ثابت ہونے والے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
میٹروپولیٹن انتظامیہ کی غفلت، باغبانپورہ، سنگھ پورہ بازاروں میں تجاوزات برقرار


















