لاہور (اپنے نمائندے سے)پنجاب میں نکاح نامہ میں ترامیم کا عمل جاری، تمام کالم مکمل کرنا لازمی قرار ختم نبوت کا حلف شامل، 18 سال سے کم عمر افراد کے نکاح کی رجسٹریشن پر پابندی، خلاف ورزی پر رجسٹرار کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پنجاب میں نکاح نامہ اور مسلم فیملی لاز میں اصلاحات کے حوالے سے ترامیم پر عملدرآمد کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ نکاح رجسٹرارز کو نکاح نامہ کے تمام کالم مکمل کرنے اور فریقین کی شناخت و عمر کی تصدیق یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں نئے نکاح نامہ میں ختم نبوت کا حلف بھی شامل کر دیا گیا ہے، جبکہ 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کا نکاح رجسٹر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ذرائع کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں نکاح نامہ اور مسلم فیملی لاز میں ترامیم کے حوالے سے وفاقی و صوبائی سطح پر مختلف اقدامات جاری ہیں۔ پنجاب میں نکاح رجسٹرارز کو ہدایت کی گئی ہے کہ نکاح نامہ کا کوئی کالم خالی نہ چھوڑا جائے اور عمر، شناختی کوائف، حق مہر، جہیز، گواہوں سمیت تمام متعلقہ معلومات مکمل درج کی جائیں ذرائع کے مطابق نکاح کی رجسٹریشن سے قبل دلہا اور دلہن کے اصل شناختی کارڈز کی نادرا ریکارڈ سے تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ 18 سال سے کم عمر افراد کے نکاح کی رجسٹریشن نہیں کی جائے گی، جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے نکاح رجسٹرار کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے پنجاب حکومت کی جانب سے چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 میں ترامیم کے بعد 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کا نکاح کرانے والے نکاح رجسٹرار اور فریقین کے اہل خانہ کیلئے بھی سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں خلاف ورزی پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ اور 2 سے 3 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ نکاح رجسٹرار کا لائسنس بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے پولیس افسران کو بھی قانون کے تحت مقدمات درج کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ذرائع کے مطابق پنجاب میں استعمال ہونے والے ترمیم شدہ نکاح نامہ میں ختم نبوت سے متعلق اعلامیہ/حلف بھی شامل کیا گیا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے یونین کونسل سیکرٹریز کو ترمیم شدہ نکاح نامہ نکاح رجسٹرارز تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے اور اس عمل میں غیر ضروری تاخیر پر کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر نکاح نامہ کے بائی لنگوئل ورڑن میں موجود تضادات دور کرنے کیلئے وزارت قانون نے 8 رکنی ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی ہے۔ عدالت کی جانب سے بالخصوص کالم 13 حق مہر اور کالم 16 جہیز کے اردو اور انگریزی متن میں موجود فرق کی نشاندہی کی گئی تھی۔ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق انگریزی متن کا نیا سرکاری اردو ترجمہ نیشنل لینگویج اتھارٹی کے ذریعے کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے کلاز 7 میں ترامیم سمیت دیگر سفارشات بھی پیش کی گئی تھیں۔ کونسل نے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو اختیاری رکھنے اور جہیز کے حوالے سے بھی اپنی سفارشات دی تھیں، تاہم ان سفارشات پر مکمل عملدرآمد کیلئے وفاقی سطح پر مزید قانونی کارروائی درکار ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم فیملی لاز میں مجوزہ ترامیم کا حتمی مسودہ اور بائی لنگوئل نکاح نامہ کا نیا سرکاری فارمیٹ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ پنجاب میں نکاح رجسٹرارز کو موجودہ مرحلے پر نکاح نامہ کے تمام کوائف مکمل درج کرنے اور قانونی تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات دی گئی ہیں۔
نکاح نامہ میں ترامیم ، تمام کالم مکمل کرنا لازمی، ختم نبوت کا حلف شامل


















