پاکستان، افواج اور عدلیہ کیخلاف بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی:سپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد ( بیورو رپورٹ) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کے بیانئے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایوان میں پاکستان کی مخالفت، افواجِ پاکستان یا عدلیہ کے خلاف کسی قسم کی گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایوان میں خطاب کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے وزیر اعظم پاکستان کی موجودگی میں اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے سلامتی کے اداروں اور ملکی مفاد کا تحفظ کرنے کو آئین توڑنا کہا جاتا ہے، تو وہ ایسا آئین بار بار توڑنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو پاکستان کی مخالفت میں یہاں بات نہیں کرنے دوں گا، آپ کو افواج پاکستان اور عدلیہ کے خلاف بات کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ سپیکر نے اپوزیشن کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ باہر کھڑے ہو کر ہر گھر سے فوج بنانے اور پاکستان کے بجائے افغانستان کو ترجیح دینے جیسے بیانات کی اس معزز ایوان میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ارکان کو مقررہ وقت سے دو گنا زیادہ وقت دے کر تقریریں کرنے دی گئیں، تب تو انہیں یہ پارلیمنٹ غیر قانونی نظر نہیں آئی تاہم اب وہ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔اپوزیشن کی موجودہ حکمت عملی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سپیکر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس وقت مکمل طور پر سٹیٹ آف کنفیوژن کا شکار ہے اور انہیں خود نہیں معلوم کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جہاں پاکستان کی سالمیت اور مفاد کی بات آئے گی، پورا ملک اور ایوان متحد اور ایک ساتھ کھڑا نظر آئے گا۔ انہوںنے کہا سینیٹ پارلیمان کاحصہ ہے اور ایوان میں اراکین سینیٹ پر تنقید نہیں ہو سکتی۔