دستی قالینوں سمیت ویلیو ایڈڈ برآمدات کو فروغ دینا ترجیح ہے: وزیر تجارت

لاہور (جنرل رپورٹر) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کر کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات میں درپیش رکاوٹوں اور مسائل کے حل کیلئے اقدامات بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف عبداللطیف ملک اور سابق سینئر وائس چیئرمین عثمان اشرف نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کو بنے ہوئے نا مکمل قالینوں کی سپلائی میں خلل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے برآمد کنندگان کو بین الاقوامی آرڈرز کی طے شدہ معاہدوں کے مطابق فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اس سے مسابقتی عالمی منڈیوں میں قیمتی مارکیٹ شیئر کم ہونے اور زرمبادلہ کو خطرات لا حق ہیں۔پی سی ایم ای اے کے وفد نے حکومت سے آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے اور سپلائی چین کو ہموار کرنے کیلئے فوری مداخلت کی درخواست کی ۔ پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک اور سینئر ممبر عثمان اشرف نے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت پاکستان کی قدیم ترین برآمدی صنعت ہے جودہائیوں سے پاکستان کیلئے قیمتی زر مبادلہ لانے کا ذریعہ رہی ہے تاہم حالیہ سالوں میں مختلف وجوہات کی بناءپر اس کی برآمدات تنزلی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے اس سے جڑے ہنر مندوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔وزیر تجارت جام کمال خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوںسمیت ویلیو ایڈڈ برآمدات کو فروغ دینا وزارت تجارت کی اولین ترجیح ہے۔ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت نہ صرف دیہی علاقوں میں ہزاروں ہنر مندوں خصوصاً خواتین کو روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے بلکہ اس کا پاکستان کی روایتی دستکاری کو محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ہے ۔انہوں نے وفد کو سپلائی کے مسائل حل کرنے اور برآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کو مضبوط کیا جائے گا، ایک متنوع، مسابقتی، معیاری اور پائیدار برآمداتی معیشت کی تعمیر کی جائے گی اور اس مقصد کیلئے حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائے گی۔