واشنگٹن:(بیورورپورٹ)غزہ بورڈ آف پیس کاپہلا اجلاس شروع،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سید عاصم منیر ،شہباز شریف کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے کہا فیلڈ مارشل عظیم انسان،اعلیٰ سپہ سالار،بڑے فائٹر ہیں،شہبازشریف کو بہت پسند کرتا ہوں،پائیدار امن کیلئے بورڈ آف پیس کے علاوہ کوئی فورم نہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہونے والے اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیراعظم شہباز شریف ، انڈونیشیا،قطر، یواے ای ،آذربائیجان ودیگر رکن ممالک شریک ہیں،اجلاس شروع ہونے سے پہلے امریکی صدر نے بورڈ کے تمام اراکین سے مصافحہ کیا ،عالمی سربراہوں کےساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا دنیا میں امن سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہیں،پاکستانی وزیر اعظم کو بہت پسند کرتا ہوں، پاک بھارت جنگ کے دوران شہباز شریف کےساتھ تعلقات مضبوط بنے،فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر عظیم شخصیت ،اعلیٰ سپہ سالار ،اچھے فائٹر اور مجھے فائٹر پسند ہیں،دونوں نے جنگ رکوانے اور لاکھوں زندگیاں بچانے پر میری کوششوں کو سراہا۔
امریکی صدر نے کہامیں نے 8 جنگیں ختم کرائیں، 9ویں خاتمے کے قریب ہے، پائیدار امن کےلئے غزہ بورڈ اہم فورم،کوئی متبادل نہیں ،دنیا کے اہم ممالک بورڈ میں شریک ہیں،غزہ کے لوگوں کےلئے روشن مستقبل چاہتے ہیں، آرمینیا ،آذربائیجان نے امن کا انتخاب کرتے ہوئے معاہدہ کیا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا پاکستان ،بھارت کی جنگ شدت اختیار کر رہی تھی، اپنا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ رکوائی، وزیراعظم مودی کو بتا دیا تھا جنگ نہ روکی تو بھاری ٹیرف لگائیں گے، پاک بھارت جنگ میں 11 جیٹ طیارے گرائے گئے،شہباز شریف نے کہا میں نے جنگ رکوا کر لاکھوںجانیں بچائیں،پاکستان کےساتھ اچھی ٹریڈ ڈیل ہوئی، دونوں ممالک پر واضح کیاجنگ کرو گے تو ٹریڈ نہیں کروں گا، 200 فیصد تک ٹیرف لگاوں گا، ایک نے چیخ کر کہا 200 فیصد ٹیرف نہ لگانا،پاکستان ،بھارت مزید جنگ کرنا چاہ رہے تھے لیکن ٹریڈ ڈیل کی وجہ سے رکے، دونوں ممالک جنگ کرتے تو بہت پیسوں سے ہاتھ دھونا پڑتا، طاقتور ایٹمی قوتوں میں جنگ ہونا اچھی بات نہیں، جنگ بندی پر راضی ہونے پر شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
امریکی صدر نے کہاغزہ کی صورتحال بہت پیچیدہ ،امید ہے حماس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے جلد ہتھیار پھینک دے گی،غزہ اب مزید انتہاپسندی اور دہشت گردی کا گڑھ نہیں رہے گا،ایران کےساتھ اچھی بات چیت ہو رہی ، با معنی معاہدہ کرنا ہے،10 دنوں میں پتہ چل جائےگا،ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا،تہران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں گے تو خطے میں امن ممکن نہیں ،امریکہ امن بورڈ کےلئے 10 ارب ڈالر کا حصہ ڈالے گا، یقینی بنائیں گے اقوام متحدہ قابل عمل رہے، یواین بہت اہم اور اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرےگا،غزہ کےلئے اقوام متحدہ امدادی دفتر 2 ارب ڈالر جمع کر رہا ہے، غزہ میں فٹبال پراجیکٹ کےلئے فیفا 75 ملین ڈالر جمع کرنے میں مدد کرے گا، چین ،روس بھی شامل ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا ہم آہنگ مشرق وسطیٰ اورایسا غزہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس پر طرز حکمرانی مناسب طریقے سے ہو نہ سوچنا پڑے جنگ کےلئے فوج بھیجنی ضروری ہوگی،امن کے قیام کیلئے پاکستان،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت سب ملکر کام کررہے ہیں،مارکوروبیو ،سٹیو وٹکوف نے جیرڈکشنر نے غزہ کیلئے بہت کام کیا، بورڈ میں بہت سے پیارے ملک شامل ہیں ،امن کیلئے مزید محنت سے کام کرنا ہوگا، اہداف کے حصول کیلئے بورڈ آف پیس کے علاوہ کوئی فورم نہیں۔
امریکی صدر نے کہا انڈونیشیا، مراکش، البانیہ، کوسوو ،قازقستان غزہ میں سکیورٹی کےلئے قائم عالمی استحکام فورس کےلئے اپنی فوج ، پولیس بھیجیں گے،آمادگی ظاہر کرنےوالے ممالک کے تعاون کو سراہتا ہوں،ممالک غزہ میں سکیورٹی، نظم و نسق ،انسانی امداد کے تحفظ میں کردار ادا کریں گے ،مصر ،اردن بھی انتہائی اہم تعاون فراہم کر رہے ہیں،بین الاقوامی فورس کے اہلکاروں کی تعداد 18 سے 22 ہزار تک ہوسکتی ہے ، بیرون ملک کے10سے 12ہزار اہلکار ہوں گے، وقت آگیا ہے ایران امن کے راستے پر چلے،معاہدہ نہ کیا تو نتائج برے ہوں گے،کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
غزہ بورڈ کا کوئی متبادل نہیں،شہباز بہت پسند،فیلڈ مارشل عظیم انسان،بڑے فائٹر ہیں،ٹرمپ


















