لاہور(قاضی ندیم اقبال)چراغ تلے اندھیرا، سابق صوبائی خطیب اوقاف پنجاب کا صاحبزادہ /محکمہ اوقاف پنجاب کا الاٹی کرایہ دار ادارہ کو اعتماد میں لئے اور تحریری اجازت لئے بغیر جامع مسجد نیلا گنبد سے ملحقہ وقف رہائشی یونٹ والڈ سٹی اتھارٹی کو بیچ کر ساڑھے 81لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کر گیا۔ با اثر ہونے کے سبب محکمہ کے کسی بھی ذمہ دار نے الاٹی /کرایہ دار کی جانب سے اٹھائے گئے خلاف ضابطہ اقدام کے بارے میں پوچھ گچھ کی ضرورت ہی نہ سمجھی اور نہ اس سے محکمانہ طور پر ریکوری کی بابت کوئی اقدام اٹھایا۔ ایوان وزیراعلیٰ کی ہدایت پر منعقد ہونے والے ایک اعلی سطحی حکومتی اجلاس کے دوران معاملہ سامنے آنے کے بعد سیکرٹری اوقاف پنجاب نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈمنسٹریشن ڈائریکٹوریٹ کو ہدایات جاری کر دیںجن کی روشنی میں ایڈمنسٹریٹر لاہور (ویسٹ) زون شاہد حمید ورک اور موجودہ منیجر سرکل دو لاہور معیز الرحمن سے ریکارڈ سمیت رپورٹ طلب کر لی۔رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کرنے کے علاوہ اس حوالے سے ایوان وزیراعلیٰ کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے نیلا گنبد توسیعی پراجیکٹ کی بابت معاملات سامنے آنے پر دسمبر2023 کے آخری عشرے میں،میں محمد شاہد اسحاق نامی شہری (صاحبزادہ سابق صوبائی خطیب محمد اسحاق) نے ایک درخواست اوقاف ایڈمنسٹریشن کے روبروجامع مسجد نیلا گنبد میں موجود 5مرلہ وقف رقبہ پر تعمیر شدہ مکان الاٹ کرنے کی درخواست کی۔ جس پر ایڈمنسٹریٹر اوقاف لاہورزون(ویسٹ ) شاہد حمید ورک نے اس وقت کے منیجر سرکل دو کاشف ندیم کو رپورٹ پیش کرنے کا تحریری حکم دیا۔ متعلقہ منیجر نے 24گھنٹے میں (اگلے روز) 22 دسمبر کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہیونٹ مذکورہ ڈیمانڈ رجسٹر میں یونٹ نمبر54 کے طور پر تحریری شدہ ہے۔ اس کی کرایہ داری مولانا اصغر عبدای کے نام پر تھی ، مولانا موصوف مکان چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ مکان عرصہ سے خالی پڑا ہے۔ اس یونٹ کے محاذ کوئی کرایہ تحریری نہ ہے ، چونکہ مولانا موصوف محکمہ کے ملازم تھے جن کے ہاﺅس رینٹ سے کٹوتی ہوتی تھی۔ اگر محکمہ اوقاف یونٹ مذکورہ کی کرایہ داری شاہد اسحاق کے نام پر کر دے تو محکمانہ مفاد میں کرتایہ کی مد میں اضافہ ہو گا۔ نطابق رینٹ کرلک مکان کی حالت خستہ ہے اور تقریبا 5مرلہ ہے۔محکمانہی مفاد میں کرایہ کا تعین کرتے ہوئے یونٹ کو کرایہ داری پر الاٹ کر دیا جائے۔مزید 24گھنٹو بعد اگلے روز 23دسمبر کو ایڈمنسٹریٹر لاہور زون(ویسٹ) نے ڈائریکٹر اسٹیٹ کو مراسلہ نمبری اے زیڈ۔4(1)/2221 کے تحت محمد شاہد اسحاق کو کرایہ داری پر الاٹمنٹ کی سفارش کر دی۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ ڈائریکٹوریٹ نے 27 دسمبر 2023کو فائل اس وقت کے سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کے روبرو پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پنجاب وقف پراپرٹیز ایڈمنسٹریشن رولز2002 کی شق نمبر(k) (iii)(1)7 کے تحت الاٹمنٹ کا اختیار چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب کو حاصل ہے۔ ناظم اوقاف لاہور(وسیٹ ) کی رپورٹ کے مطابق اس یونٹ کا ماہوار کرایہ حسب مبلغ10 روپے فی مربع فٹ تجویز شدہ ہے۔ لہذا تجویز یونٹ نمبر54 ملحقہ جامع مسجد نیلا گنبد کی الاٹمنٹ کا معاملہ برائے منظوری پیش خدمت ہے۔ اس وقت کے سیکرٹری اوقاف پنجاب نے 28دسمبر کو الاٹمنٹ کی منظوری جاری کر دی۔درخواست دہندہ کے با اثر اوروالد گرامی کے ریفرنس کے سبب معتبر ہونے کی بنائ پرجامع مسجد نیلا گنبد سے ملحقہ 5مرلہ وقف گھر کی الاٹمنٹ /کرایہ داری کی منظوری کا پراسس صرف10 یوم میں مکمل کرلیاگیا، دستاویزات کی کاپی”مشرق“ نے حاصل کر لی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ والڈ سٹی اتھارٹی نے قواعد و ضوابط کے تحت نیلا گنبد توسیعی منصوبہ کے متاثرین کو ادائیگیوں کا پراسس شروع کیا تو سابق صوبائی خطیب اسحاق کے صاحبزادے شاہد اسحاق کو بھی سروے رپورٹ کی روشنی میں ساڑھے81لاکھ روپے کی ادائیگی کی۔ چیک وصول کرنے کے بعد وہ چلتے بنے۔ معاملات فائلوں کی زینت بن گئے۔تاہم چند روز قبل ایک اعلیٰ حکومتی اجلاس میں نیلا گنبد توسیعی منصوبہ کے سبب محکمہ اوقاف پنجاب کو کرایہ داری کی مد میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کے دوران یہ معاملہ سامنے آ گیا۔ جس کا سیکرٹری اوقاف پنجاب احسان بھٹہ نے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
چراغ تلے اندھیرا، سابق صوبائی خطیب اوقاف کے بیٹے کا ادارے کیساتھ 81½ لاکھ کا ہاتھ


















