واشنگٹن (مشرق نیوز) امریکہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر قطر اور بحرین میں قائم اہم فوجی اڈوں سے اپنے سینکڑوں فوجی اہلکار نکال لئے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قطر کے العدید ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے منسلک تنصیبات سے اہلکاروں کی منتقلی کی گئی ہے۔
العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار اہلکار تعینات ہیں اور یہ امریکی فضائی کارروائیوں کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ اچانک کشیدگی کی صورت میں فوجیوں کو خطرے سے بچانے کیلئے کیا گیا ہے اور اسے فوری جنگ کی تیاری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ اس کے باوجود امریکہ کے فوجی دستے عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں بدستور موجود ہیں۔
دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اتنی فوجی اور بحری طاقت بڑھانے کے باوجود ایران نے ابھی تک “سرنڈر” کیوں نہیں کیا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی تجاویز پیش کر دی گئیں تو جنیوا میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البسیدی نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جنیوا میں ہوں گے۔
امریکہ نے قطر اور بحرین سے اپنے سینکڑوں فوجی واپس بلالئے



















