لاہور (قمر عباس نقوی) پاکستان ریلوے کی جانب سے لاہور سٹیشن پر مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر ٹرینوں کی تاخیر کے عمل نے پانی پھیر دیا ، اے سی کی مد میں کرایہ کی وصولی، سہولیات صفر ، آﺅٹ سورس سے محکمہ کی آمدنی میں اضافہ، عوام کی سستی سفری سہولت کے خاتمہ کی سازش ، گھنٹوں انتظار کی کوفت سے دوچار ہونے والے مسافروں نے مشرق کی وساطت سے معاملات کو بہتر بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ مسافروں نے سروے کے دوران ”مشرق“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کا لاہور انتظامیہ کا آمدنی میں اضافہ کی لالچ کی منصوبہ بندی، مسافر ٹرینوں کی آﺅٹ سورسنگ سے سستی سفری سہولت کا خاتمہ کیا جا رہا ہے ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مسافروں سے اے سی کی سہولت فراہم کرنے کی مد میں کرایہ وصول کیا جارہا ہے لیکن اے سی کی سہولت کی عدم فراہمی ہے۔مسافروں نے مزید کہا کہ ریلوے سٹیشن پر مسافروں کو لگژری سہولیات کی فراہمی متعدد ویٹنگ ایریا ز سمیت اعلیٰ معیار کے کھانے پینے کے علاوہ مسافروں کو ٹرینوں کی آمد و روانگی کی معلومات کیلئے ڈیجیٹل ڈیسک کا قیام واش رومز میں گرم پانی و دیگر انتظامات پر مسافروں کا ریلویز انتظامیہ کی جانب سے بہترین سہولیات پر اظہار اطمینان بھی کیا گیا ہے، ٹرینوں کو بھی عملی طور پر اپ گریڈ اور آمد و روانگی جیسے مسائل کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسافر دانش کا کہنا تھا کہ ریلویز انتظامیہ نے لاہور سٹیشن کو لگژری سہولیات سے آراستہ کرتے ہوئے لگژری ویٹنگ ایریا ز قائم کئے ہیںاور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے جو کہ بہترین اقدام ہے لیکن ٹرینوں کے اندر بھی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ارشاد احمد نے کہا کہ آﺅ ٹ سورس واش رومز انتظامیہ 50روپے کی وصولی کر رہی ہے جس سے مسافروں پر اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔ اشتیاق احمد ،اسلم خان، اکرام الحق ،فہیم مقبول اور دیگر نے کہا کہ ریلوے کی جانب سے سٹیشن کو تو اپ گریڈ کیا گیا ہے لیکن مسافر ٹرینوں کو اپ گریڈ نہیں کیا جا سکا، عرصہ دراز سے تاخیر جیسا مسئلہ حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گھنٹوں ٹرینوں کی تاخیر کی کوفت سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ سٹیشن پر فراہم کی گئی تمام سہولیات کو بے مقصد کر رہی ہے جبکہ مختلف مسافر ٹرینوں کے ساتھ اے سی کوچز کا کرایہ وصول کیا جا رہا ہے لیکن سہولت میسر نہیں کی جا رہی پلانٹ کی خستہ خالی کو بہتر کرنے کی بجائے مسافروں کو برداشت کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے مسئلہ کو بھی لاہور سٹیشن کی طرح آراستہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرماضی کی طرح اب بھی اس معاملہ کو نظر انداز کیا گیا تو مسافروں کیلئے یہ سب کچھ بے معنی ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے پاکستان اور عوام کا سرمایہ ہے، اس کو آﺅٹ سورس کرنے کی بجائے ایسی منصوبہ بندی کی جائے کہ ملک میں مفاد پرست مافیا عوام کو مالی مسائل کا شکار نہ بنا سکے، اگر اس کے بغیر گزارا نہیں ہے تو اس معاملہ کو عوام کے مالی حالات کے مطابق نافذ کیا جائے کراچی کینٹ سے لاہور آنے والی گرین لائن پر سفر کرنے والے مسافر جمیل نے ٹرین میں دی جانے والی سہولیات پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین فراہم کیا جانے والا کھانا ٹھنڈا اور واش روم و دیگر سہولیات ناقص ہونے کے باعث پاکستان ریلویز پر اظہار برہمی ، پاکستان ریلوے کی ٹرین پر سفر کرنے کی بجائے دیگر وسائل ہوائی سفر کو ترجیح دی گئی، لاہور سے کراچی کا سفر گرین لائن پر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، مسافر نے مطالبہ کیا کہ سٹیشنوں کی طرح ٹرینو ں کو بھی بہتر کیا جائے۔ملک بھر میں مختلف روٹس پر چلنے والی مسافر ٹرینوں میں صفائی سمیت الیکٹرک اور سیٹس کے ناقص انتظامات کی شکایات کرتے ہوئے مسافروں کا کہنا تھا کہ کوئی سہولت نہیں سوائے برداشت کے ساتھ سفر مکمل کرنے کے اور کن انتظامات کی بات کر رہے ہیں سب کچھ کھٹارا ہے، ریلوے کو پرائیویٹ کرنے کی منصوبہ بندی یا پھر خاتمہ کرنے کی خاطر مسافروں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔
ریلوے، آوٹ سورس کی آڑ میں عوام کی سستی سفری سہولت ختم کرنیکی سازش



















