پاکستانی میزبانی میں ایران، امریکہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل، مشترکہ اعلامیہ

برگن سٹاک (مشرق نیوز) قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی میں ہونے والے لوسرن سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں فریقین نے آئندہ 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کیلئے باقاعدہ روڈ میپ پر اتفاق کر لیا۔

اجلاس کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے پہلے اعلیٰ سطحی مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں مکمل ہوئے۔ بات چیت کے دوران کئی اہم امور پر پیشرفت ہوئی جن میں مستقبل کے تکنیکی مذاکرات کیلئے مستقل طریقہ کار کا قیام بھی شامل ہے۔

اعلامیہ کے مطابق فریقین نے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے جو پورے مذاکراتی عمل کی سیاسی نگرانی کریگی۔ مرکزی مذاکرات کار اس کمیٹی کو باقاعدگی سے پیشرفت سے آگاہ کریں گے جبکہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل و نگرانی سے متعلق خصوصی ورکنگ گروپس بھی قائم کئے جائیں گے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے اور کسی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے فریقین کے درمیان براہ راست رابطے کا خصوصی نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشترکہ اعلامیہ کو کوٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انتھک پاکستانی اور قطری ثالثی سے لبنان جنگ کے خاتمے کیلئے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور پیٹرو کیم کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئیں اور ایران کی ناکہ بندی ختم کر دی گئی جبکہ کچھ منجمد اثاثے جاری کئے گئے اور ایران کیلئے تعمیر نو اور ترقی کا بڑا منصوبہ شروع کیا گیا۔ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پہلا اصلی امتحان لبنان ڈیکفلیکشن سیل کا قیام ہے۔

لبنان سے متعلق معاملات پر بھی پیشرفت سامنے آئی، جہاں فریقین نے لبنان اور ثالث ممالک کی معاونت سے ایک مشترکہ ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا جس کا مقصد لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات پورا ہفتہ برگن سٹاک میں جاری رہیں گے جبکہ قطر اور پاکستان آئندہ بھی مذاکرات کو مثبت اور نتیجہ خیز سمت میں آگے بڑھانے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ قطر اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کی جانب سے سفارتکاری اور پرامن حل کے عزم کو سراہتے ہوئے ان تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے تعاون فراہم کیا۔

دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ دوپہر ایک بجے پاکستان کیلئے روانہ ہو جائیں گے۔