اسلام آباد: (بیورورپورٹ) سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
، سماعت کے دوران نیب مقدمات میں ضمانت درخواستیں سننے کے دائرہ اختیار پر تفصیلی قانونی بحث ہوئی،درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے موقف اختیار کیا ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کےخلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جا سکتی ہے اگر ہائیکورٹ ضمانت درخواست مسترد کر دے تو معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کو کرنی چاہیے،نیب آرڈیننس کی دفعہ 32 کا اطلاق ضمانت مقدمات پر نہیں ہوتا۔
جسٹس علی مظہر نے استفسار کیا اصل سوال ہے ضمانت دینے یا مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جائے تو کیا اپیل تصور کیا جائے گا؟ اگر سپریم کورٹ ضمانت درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتی ہے تو اپیلیٹ فورم بن جائے گی، نیب قانون کے مطابق اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔
جج سپریم کورٹ نے کہاعدالت کو بتایا جائے قانونی طور پر سپریم کورٹ ضمانت مقدمات کس بنیاد پر سن سکتی ہے، قانون اپیلیٹ فورم کا تعین کر چکا تو سپریم کورٹ ضمانت مقدمات میں اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے؟،وکیل عباد الرحمان لودھی نے عدالت سے کہا خدا کےلئے انتظامیہ کے خفیہ مقاصد کےلئے اپنا اختیار سرنڈر نہ کریں، سپریم کورٹ کا کوئی اختیار تو رہنے دیں،قانون نے وفاقی آئینی عدالت کو ضمانت درخواستیں سننے کا اختیار نہیں دیا،فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
نیب ترامیم کیس، ضمانت مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ



















