شرح سود میں اضافہ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے: لاہور چیمبر آف کامرس

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے بعد اسے 11.50 فیصد کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کاروباری برادری پہلے ہی توانائی اخراجات، بھاری ٹیکسوں اور خطے میں کشیدگی کے منفی اثرات کا سامنا کر رہی ہے، جن میں فریٹ چارجز میں اضافہ، وار رسک سرچارجز اور سپلائی چین میں رکاوٹیں شامل ہیں، شرحِ سود میں اضافہ صنعتی اور تجارتی شعبوں پر مزید دباو¿ ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ براہِ راست کاروبار کیلئے قرض لینے کی لاگت بڑھاتا ہے۔ وہ صنعتیں جو ورکنگ کیپیٹل، توسیع اور جدت کیلئے بینک فنانسنگ پر انحصار کرتی ہیں، اب زیادہ مالی اخراجات کا سامنا کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جو پہلے ہی لیکویڈیٹی کے مسائل سے دوچار ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے، توسیعی منصوبوں میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے اور روزگار کے مواقع کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ برآمدی شعبے بھی کم مسابقتی ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں فنانسنگ لاگت کئی حریف ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت صارفین کی جانب سے گھروں، گاڑیوں اور دیگر فنانس شدہ مصنوعات کی طلب میں بھی کمی لا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ صنعتیں اور مجموعی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ مہنگائی پر قابو پانا ضروری ہے، لیکن صرف مانیٹری ٹائٹننگ سے ساختی مسائل جیسے بلند توانائی نرخ، زیادہ ٹیکسیشن، سپلائی سائیڈ کی کمزوریاں اور پالیسی میں غیر یقینی صورتحال حل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ قیمتوں کے استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متوازن حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔صدر لاہور چیمبر نے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کاروبار کی لاگت کم کرنے، ایس ایم ایز کیلئے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے اور برآمدات کے فروغ کیلئے متوازی اقدامات کریں تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔