ریلوے رہائشی کالونیوں میں انتظامی ایکشن بھی بیکار، قبضہ مافیا دھڑلے سے گھروں پر قابض

لاہور (قمر عباس نقوی/ تصاویر: واحد شہزاد) صوبائی دارالحکومت لاہور میں پاکستان ریلوے کی رہائشی کالونیوں میں سرکاری ملازمین کیلئے مختص ہزاروں رہائشی یونٹس غیر قانونی طور پر کرائے سمیت مافیا کا قبضہ انتظامیہ کی کارروائیوں کے باوجود صورتحال بے قابو ،لاہور میں 15 سے 20 بڑی اور چھوٹی کالونیاں جبکہ 30 سے 40 فیصد تک رہائشیں غیر الاٹی افراد کے قبضے میں ہیں، شعبہ ویجی لنس کی کارروائی میں مغلپورہ اور لاہور ڈویژن میں 500 سے زائد بوگس الاٹمنٹ میں ملوث افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی کے باوجود غیر قانونی الاٹی تاحال قابض ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں ریلوے کی 15 سے 20 بڑی اور چھوٹی کالونیاں موجود ہیں جن میں مغل پورہ، گڑھی شاہو اور بادامی باغ کے اطراف قائم رہائشی علاقے شامل ہیں۔ ان کالونیوں میں ہزاروں کی تعداد میں نچلے اور درمیانی درجے کے ملازمین کیلئے کوارٹرز جبکہ سینکڑوں افسران کیلئے کوٹھیاں موجود ہیں، تاہم ان میں سے بڑی تعداد اصل الاٹیوں کے بجائے غیر متعلقہ افراد کے زیر استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مبینہ طور پر کئی سرکاری کوارٹرز باقاعدہ کرائے پر دئیے جا رہے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے۔ اسکے علاوہ متعدد ریٹائرڈ ملازمین برسوں سے رہائش خالی نہیں کر رہے جبکہ خالی پڑے مکانات پر قبضہ گروپس نے مستقل ڈیرے جما رکھے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ پورے بلاکس عملاً نجی رہائش گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں ریلوے انتظامیہ کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے۔ ذرائع کے مطابق کالونیوں میں 30 سے 40 فیصد تک رہائشیں غیر الاٹی افراد کے قبضے میں ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں حاضر سروس ملازمین کو رہائش کی سہولت دستیاب نہیں۔ یہ صورتحال ادارے کے اندر شدید بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ ریلوے حکام نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران غیرقانونی قبضوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے آپریشنز کئے گئے، درجنوں کوارٹرز واگزار کروائے گئے اور سینکڑوں افراد کو نوٹس جاری کئے گئے تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کئی مقامات پر کارروائیاں عارضی ثابت ہوئیں آپریشنز کے دوران بعض علاقوں میں شدید مزاحمت بھی دیکھنے میں آئی جہاں رہائشیوں نے دہائیوں سے قیام کا جواز پیش کیا جبکہ بعض کیسوں میں بااثر افراد کی مداخلت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے کارروائیوں کی شفافیت اور مو¿ثریت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ریلوے حکام کا موقف ہے کہ سرکاری رہائش صرف الاٹ شدہ ملازمین کا حق ہے اور کسی بھی صورت سب لیٹنگ یا غیر قانونی رہائش برداشت نہیں کی جائیگی۔ ان کا کہنا ہے کہ قبضوں کے خاتمے کیلئے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ رہائشیں اصل حقداروں تک پہنچ سکیں۔

ریلویز پولیس کے کامیاب اینٹی انکروچمنٹ آپریشنز کے 15 روزہ اعدادوشمار
لاہور(اپنے نمائندے سے)آ ئی جی ریلویز پولیس وصال فخر سلطان کے احکامات کے مطابق ریلویز پولیس نے کامیاب اینٹی انکروچمنٹ آپریشنز کے 15 روزہ اعدادوشمار جاری کر دیئے۔ ریلویز پولیس نے یکم اپریل 2026 سے 15 اپریل 2026 کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور 27 اینٹی انکروچمنٹ آپریشنز کر کے غیر قانونی قبضہ مافیا سے 485 ملین کی خطیر مالیت کی 16 ایکٹر سے زائد کمرشل، زرعی اور رہائشی ریلوے اراضی واگزار کروائی میں کل 83 دوکانوں کو مختلف وجوہات کی بناءپر سیل کیا گیا۔ پشاور، لاہور اور سکھر نے بالترتیب 32، 16 اور 35 دوکانوں کو سیل کیا۔ کامیاب اینٹی انکروچمنٹ آپریشنز کے نتیجے میں 1.7 ملین کی خطیر رقم بھی قومی خزانے میں جمع کروائی گئی ڈویژنل کارکردگی میں سکھر ڈویژن 10 آپریشنز کے ساتھ سر فہرست رہا اور 12 ایکڑ ریلوے اراضی واگزار کروائی۔ پشاور ڈویژن، راولپنڈی، لاہور اور ورکشاپس (مغلپورہ) نے بالترتیب 0.250، 0.525، 1.181، 0.008 ایکٹر ریلوے اراضی واگزار کروائی، اسکے علاو¿ہ ملتان، کوئٹہ اور کراچی نے بالترتیب 2.250، 0.050 اور 0.260 ایکٹر ریلوے اراضی واگزار کروائی۔ کامیاب اینٹی انکروچمنٹ آپریشنز میں ریلویز پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ عملہ ریلوے نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔