لاہور (میاںذیشان) بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ضلع ملتان میں 65 کروڑ روپے سے زائد کے ریونیو سکینڈل کے انکشاف کے بعد بالآخر کرپٹ سرکاری اہلکاروں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور ذمہ دار افسران کیخلاف باضابطہ انکوائریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ملتان کی مختلف تحصیلوں، سب رجسٹرار دفاتر اور سرکلوں میں تعینات رہنے والے افسران بالترتیب سب رجسٹرارز کی انکوائری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، تحصیلداروں کی انکوائری سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب اور ریونیو افسران کی انکوائری کمشنر ملتان کی سپرد کر دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب کے شعبہ آڈٹ، انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ کا ضلع ملتان کے سب رجسٹرار سٹی،کینٹ، تحصیلدارن ، نائب تحصیلداران کے مختلف دفاتر اور سرکلوں کا دوران تعیناتی خصوصی آڈٹ کیا گیا تھا جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 236-C اور 236-K کی بابت وصول کئے جانیوالے ٹیکسز کی مد میںمجموعی طور پر 65 کروڑ روپے سے زائد کا ریونیو کی بوگس اور جعلی کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسیپٹس اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جاری کردہ ویلیو ایشن ٹیبل سے کم شرح پر وصول کر کے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا تھا جس کے بعد بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے میگا کرپشن سکینڈل میں ملوث کرپٹ سرکاری اہلکاران کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے اور اس سکینڈل میںملوث سرکاری ہرکاروں کے خلاف باضابطہ انکوائریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سب رجسٹرارز کیخلاف انکوائری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں کی جائیگی جبکہ تحصیلداروں کے خلاف تحقیقات سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کی نگرانی میں ہوں گی اور ریونیو افسران کے خلاف کارروائیاں کمشنر ملتان کی جانب سے شروع کی جائیں گی اور ریونیو چوری میں ملوث افسران سے کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسیدات کی مد میں ریکوریاں بھی کی جائیں گی تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ اس سکینڈل میں ملوث افسران میں خصر حیات، محمد شمعون، ندیم قصر، عابد شبیر، محمد شفیق، اعظم ممتاز، رائے حسن مصطفیٰ، ریاض احمد اور فرخ جاوید سمیت دیگر اہلکار شامل ہیں جن کے خلاف مختلف سطحوں پر کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ افسران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جعلی کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسیدات اور کم شرح پر واجبات کی وصولی کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے نہ صرف اس بڑے فراڈ کا سراغ لگایا گیا بلکہ متعلقہ اداروں کو فوری ایکشن لینے کیلئے واضح ہدایات بھی جاری کی گئیں، جس کے نتیجے میں اب عملی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔
کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا : چیف سٹیمپ انسپکٹر جنید
لاہور (سپیشل رپورٹر) ضلع ملتان کے اس میگا کرپشن سکینڈل میں ملوث سرکاری کرندوں کے خلاف محکمانہ کارروائی کے حوالے سے چیف سٹیمپ انسپکٹر جنید سے رابطہ کیا تو انکا کہنا ہے کہ کرپٹ سرکاری افسران کے خلاف انکوائریوں کا آغاز ہو گیا ہے اور خرد برد کئے جانیوالے سرکاری ریونیو کی بابت ڈپٹی کمشنر آفس ملتان کو مراسلہ جات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ ریکوری کی ذمہ داری متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر پر عائد ہوتی ہے بورڈ آف ریونیو کا کام پالیسی بنانا، اس پر عملدرآمد کروانا اور سرکاری واجبات کا چیک اینڈ بیلنس رکھا ہے۔ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کسی بھی بااثر شخصیت یا افسر کو رعایت نہیں دی جائیگی جبکہ آنے والے دنوں میں مزید انکشافات اور گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بورڈ آف ریونیو ضلع ملتان، 65 کروڑ کے سکینڈل کے بعد کرپٹ سرکاری اہلکاروں کیخلاف گھیرا تنگ


















