تہران (مشرق نیوز) ایران کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے کوئی نیا حملہ کیا گیا تو وہ پہلے سے طے شدہ اہداف کو فوری طور پر نشانہ بنائیں گی۔ یہ انتباہ ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی فوجی قیادت کی جانب سے بار بار دھمکیوں کے بعد سامنے آیا۔
ترجمان کے مطابق ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور سو فیصد تیاری کی حالت میں ہیں اور ہر وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایرانی فورسز فوری اور بھرپور انداز میں پہلے سے مقرر کردہ اہداف کو نشانہ بنائیں گی
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پاکستان کے حکام کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے جبکہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھی جائے گی۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی حملے کیلئے خطے کے ہمسایہ ممالک کی سر زمین یا تنصیبات استعمال کی گئیں تو مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئی آر جی سی کے ایرو اسپیس کمانڈر میجر جنرل مجید موسوی نے ایرانی ذرائع ابلاغ کو جاری بیان میں کہا کہ ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگر ان کی زمین یا سہولیات کو ایران کیخلاف جارحیت کیلئے استعمال کیا گیا تو انہیں مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ کسی بھی مرحلے پر دشمن نے معمولی سی بھی غلطی کی اور ایران پر حملہ کیا تو جہاں بھی ایرانی عوام کہیں گے، وہی ہماری کارروائی کا ہدف ہوگا۔ ایرانی عہدیدار کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حملے کے ردعمل میں طے شدہ اہداف کو نشانہ بنائیں گے: ایرانی فوج کی دھمکی


















