ایران نے امریکہ سے امن مذاکرات کیلئے نئی تجاویز پاکستان کے سپرد کر دیں

تہران،اسلام آباد،واشنگٹن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)ایران نے امریکہ سے امن مذاکرات کیلئے نئی تجاویز پاکستان کے سپرد کردیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے تجاویز کا نیا مسودہ جمعرات کی شام کو حوالے کیا،تجاویزپاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھیج دی گئیں،ذرائع کے مطابق امریکہ سے جواب آنے کے بعد معاملے میں مزید پیشرفت ہوگی، نئی ایرانی تجاویز میں پہلے جنگ بندی کو مستحکم کرنا پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور بعد ازاں پیچیدہ معاملات جیسے جوہری پروگرام کو زیر بحث لانا شامل ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کئی ممالک تعاون کےلئے آمادہ ہیں لیکن باضابطہ ثالث صرف پاکستان ہی ہے،بات چیت کا فیصلہ کیا تو باضابطہ طور پر سب کو مطلع کریں گے، سلامتی کونسل میں روس ،چین نے ایران کو شرپسند کارروائیوں سے بچایا۔

اسماعیل بقائی نے کہا ایران پر حملہ دفاعی نہیں،کھلی جارحیت ،امریکہ کے پاس دفاعی کہنے کا کوئی جواز نہیں،امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز پر قبضے کوسمندری قزاقی سمجھتے ہیں، معاملہ پاکستانی ثالث کے ذریعے اٹھا رہے ہیں تاکہ زیر حراست ایرانی شہریوں کی رہائی ممکن بنائی جاسکے،ایران ،روس کے درمیان سٹریٹجک پارٹنر شپ معاہدے کے تحت سیاسی، سکیورٹی ،معاشی شعبوں میں وسیع تعاون ہے

علاوہ ازیں ا قوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے امریکہ ،اسرائیل کی ایران کےخلاف کارروائی میں معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے عرب ممالک کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ دہرا دیا،ایرانی سفیر نے خط میں کہا خلیج فارس سے ملحق ممالک پر لازم ہے ایران کو مکمل ہرجانہ ادا کریں،جارحانہ اقدامات کے باعث ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ شامل ہونا چاہیے۔

ادھرایرانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس غلام محسنی نے کہا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز کبھی نہیں چھوڑی ،ڈرتے ہیں نہ جنگ کے خواہاں،عزت کو خطرہ لاحق ہوا تو لڑیں گے، قوم کا موقف پختہ ہے،کسی قسم کا جبر قبول نہیں کریں گے،ایران امریکہ کےخلاف قانونی کارروائی کرے گا،جنگی جرائم کے مرتکب افراد کا تعاقب کریں گے۔

دوسری جانب کانگریس کی ووٹنگ سے بچنے کےلئے ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کےساتھ جنگ ختم ہونے کاتاثر دے دیا،امریکی عہدےدار نے کہاامریکہ ایران جنگ ختم ،سیز فائر کے بعد سے دونوں ملکوں میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی،امریکی صدر کو کانگریس سے منظوری کی ضرورت نہیں۔

علاوہ ازیں امریکہ نے ایرانی حکومت کے بیرون ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاونٹس منجمد کرنے پر غور شروع کر دیا،وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے کہا امریکہ ناکا بندی کے علاوہ ایران پر مزید سخت معاشی دباو برقرار رکھے گا،ایرانی تیل کی خرید و فروخت میں ملوث صنعتوں ، بینکوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کے ارادے سے آگاہ کردیا گیا ۔