لاہور (قاضی ندیم اقبال) حکومت پنجاب کاڈاکٹر طاہر رضا بخاری ریٹائرڈسیکرٹری اوقاف ا ور خالد محمود سندھو سابق ڈائریکٹر فنانس اوقاف کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت باضابطہ کارروائی کا آغاز کرنے سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور شفافیت کا عمل ہر صورت برقرار رکھنے کیلئے اہم فیصلہ۔ محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کے لئے لگائے جانے والے الزامات کی ابتدائی چھان بین کا ٹاسک بہترین ساکھ کے حامل سینئر افسروں میں سے ایک سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید کو سونپ دیا جو تیس یوم میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے جس کی روشنی میں دونوں افسروں کے خلاف جزا و سزا کا عمل آگے بڑھانے یا نہ بڑھانے کی بابت حکومت پنجاب حتمی فیصلہ کرے گی۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی جانب سے نبیل جاوید کو ٹاسک سونپنے جانے کے بعد تمام صوبائی انتظامی افسروں سمیت ایوان وزیراعلیٰ اور گورنر سیکرٹریٹ کی نگاہیں مذکورہ ہائی پروفائل کیس پر جم گئیں۔ کیونکہ سینئر ممبر بورڈآف ریونیو نبیل جاوید ماضی قریب میںبطور سیکرٹری اوقاف خدمات سر انجام دینے کے علاوہ داتا دربار توسیعی منصوبہ کے حوالے سے حکومت پنجاب کی بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں اور جن دو افسروں کی بابت معاملات کی چھان بین کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی ہیں، وہ دونوں ان کے ماتحت کام بھی کر چکے ہیں۔سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے مصدقہ ذرائع کے مطابق سیکرٹری اوقاف پنجاب و چیف ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر احسان بھٹہ مختلف حوالوں سے سامنے آنے والے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے دربار حضرت داتا گنج بخش ، دربار حضرت بی بی پاکدامن سمیت دیدگر وقف مزارات پر کشادگی کیش بکسوں کی نگرانی کروانا شروع کی تو نہ صرف محکمانہ آمدن تسلسل کے ساتھ بڑھنے لگی جبکہ محکمانہ سطح پر مختلف حوالوں سے تحقیقات کروانے پر داتا دربار پر تعینات سابق ایڈمنسٹریٹر، منیجر، اسسٹنٹ اور دو نگرانوں کی جانب سے چندہ بکسوں میں بڑے پیمانے پر مالی مبینہ خوردبرد کا معاملہ بھی سامنے آ گیا۔ بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج چوری کے معاملات بھی سامنے آ گئے۔جبکہ نگرانی شروع ہوتے ہی چندے میں حیران کن اضاف ہوا،اور ماضی قریب میں۔ذشتہ سالوں کے دوران کروڑوں کے نقصان کا شبہ بھی پیدا ہو گیا۔ سیکرٹری اوقاف پنجاب نے معاملہ کی چھان بین کے لئے بدعنوانی و بد انتظامی کے الزامات کے حوالے سے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ، جس کو تحقیقات کے دوران متعدد معاملات/شواہد سامنے آئے جبکہ اس حوالے سے داتا ? دربار پر تعینات نئے ایڈمنسٹریٹر اور ان کے سبھی منیجرز کے دستخطوں کی حامل رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ مارچ 2026 کو مزار انتظامیہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مجاز اتھارٹی نے قرار دیا کہ ابتدائی طور پر مذکورہ افسران بدعنوانی، حکم عدولی اور مالی خردبرد میں ملوث پائے گئے، جس پر پیڈا ایکٹ کی دفعہ 5(9) کے تحت باضابطہ انکوائری ناگزیر ہے۔جس کے تناظر میں سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاو نٹیبلٹی (پیڈا) ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔ذرائع کے مطابق دوسری جانب محکمہ خزانہ حکومت پنجاب کی جانب سے گذشتہ برس حضرت داتا گنج بخش کے سالانہ عرس کے موقع پر جاری کی گئی خصوصی گرانٹ 6 کروڑ روپے اور اس سے قبل سیرت النبی سے کے حوالے سے سیرت النبی کانفرنس کے انعقاد کی غرض سے محکمہ فنانس کی جانب سے جاری کی گئی خصوصی گرانٹ کی بابت تحقیقات شروع کروائی گئیں، جس میں قواعد و ضوابط کے برعکس اقدامات ، ایک روڑ روپے مالیت کا چیک اوپن کرنے ، اور ادارے میں اپنے طور پر از خود ایمرجنسی نافذ کر کے ، کی جانے والی ادائیگیوں سمیت دیگر سنگین معاملات کی بھی نشاندہی ہو گئی۔ جس کی بابت سیکرٹری اوقاف پنجاب کی منظوری سے تحققیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ اور اس عمل میں ملوث افراد کے خلاف انکوائریاں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق دوسری جانب سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے 3اپریل 2026کو ایک سمری سیکرٹری سروسز کو ارسال کرتے ہوئے سابق(ر) سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر سید طاہر رضا بخاری اور سابق ڈائریکٹر فنانس خالد محمود سندھو کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی سفارش کی۔جس کے بعد دونوں شخصیات نے سیکرٹری اوقاف پنجاب کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور اپنی بے گناہی کی یقین دہانی کرواتے ہوئے واضح کیا کہ اس ضمن میں معاملات کی محکمانہ سطح پر ہونے والی انکوائری سے انہیں الگ تھلگ رکھا جائے جس پر انہیں باور کروایا گیا کہ بطور سیکرٹری اوقاف و ہ دونوں افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کے اختیارات نہیں رکھتے ، اس لئے معاملہ حکومت پنجاب کے روبرو پیش کر دیا گیا ہے جس کے بعد دونوں افسروں نے سول سیکرٹریٹ میں بھی بعض ذمہ داران سے ملاقات کر کے انہیں اپنی بے گناہی کی یقین دہانی کروانے کی کوشش کی۔ذرائع نے بتایا کہ 8اپریل کو سیکرٹری سروسز کی جانب سے سمری چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کو ارسال کر دی۔ جنہوں نے سمری ایوان وزیر اعلی بھجوانے کا فیصلہ کیا ، تاہم بعد ازاں قانونی تقاضے پورے کرنے کا عزم کرتے ہوئے سیکرٹری سروسز کو اس حوالے سے ایک پینل تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ ابتدائی چھان بین کروائی جا سکے اور اس کے بعد معاملات ایوان وزیر اعلی کے روبرو پیش کر دئیے جائیں۔ذرائع کے مطابق سیکرٹری سروسز پنجاب نے تین افسروں کے ناموں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دے کر چیف سیکرٹری پنجاب کے روبرو پیش کر دیا۔ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان مے بطور مجاز اتھارٹی ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ، ریٹائرڈسیکرٹری اوقاف ا ور خالد محمود سندھو سابق ڈائریکٹر فنانس اوقاف کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت باضابطہ کارروائی کا آغاز کرنے سے سے قبل تمام قانونی تقاضے اور شفافیت کا عمل برقرار رکھنے کیلئے پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کے لئے لگائے جانے والے الزامات کی ابتدائی چھان بین کا ٹاسک بہترین ساکھ کے حامل سینئر افسر، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید کو سونپ دیا ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سابق(ر) سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری اور سابق ڈائریکٹر فنانس خالد محمود سندھو سے تحریری بیان لینے کے علاوہ دیگر حوالوں سے بھی اپنی رپورٹ تیس یوم میں اپنی رپورٹ چیف سیکرٹری پنجاب کو پیش کریں گے، جس کے بعد دونوں افسروں کے خلاف معاملاہ آگے بڑھانے یا نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا جائیگا۔
محکمہ اوقاف،طاہر رضا بخاری، خالد محمود سندھو کیخلاف کارروائی کیلئے شفافیت برقرار رکھنے کا فیصلہ


















