موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے مستحکم ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام ناگزیر ہے: چیئرمین این ڈی ایم اے

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) این ڈی ایم اے میں پیشگی اقدامات کے حوالے سے دوسرے 2 روزہ قومی مکالمے کا آغازہوگیا۔ آفات کے تدارک سے متعلق دو روزہ مکالمہ این ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہو رہا ہے جس کا مقصد قدرتی آفات کے بعد ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات اور تیاری کے نظام کو موثر بنانا ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے قومی مکالمے کے شرکاءکو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ بروقت تیاری، موثر وارننگ سسٹم اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے نقصانات میں کمی ممکن ہے۔ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے فعال اور مستحکم ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام ناگزیر ہے۔ این ڈی ایم اے ملک میں پیشگی اقدامات اور موثر تیاری کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات اور قبل از وقت تیاری کو قومی ترجیح قرار دیا گیا۔ انہوں نے سیلاب، ہیٹ ویو، خشک سالی اور وبائی امراض سے قبل بروقت اقدامات پر زوردیا۔ واضح رہے قومی مکالمے میں 200 سے زائد ماہرین، حکومتی اداروں اور عالمی تنظیموں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ابتدائی وارننگ سسٹمز اور خطرے سے دوچار افراد تک بروقت معلومات و انتباہ کی فراہمی کا نظام مزید موثر بنانے پر غورکیا گیا جبکہ موسمیاتی خطرات سے متعلق معلومات کے موثر استعمال کیلئے ہم آہنگ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاءنے پیشگی اقدامات کو قومی و صوبائی پالیسیوں میں شامل کرنے پر زوردیا۔ اجلاس میں ڈیزاسٹر رسک فنانسنگ اور کلائمیٹ فنانس کے پائیدار نظام پر مشاورت کی گئی جبکہ سیلاب کیساتھ ساتھ ہیٹ ویوز، ڈینگی اور دیگر ہنگامی صورتحال کیلئے پیشگی حکمت عملی بھی زیرغور آئیگی۔ این ڈی ایم اے نے موسمیاتی خطرات سے محفوظ اور مستحکم پاکستان کیلئے عزم کا اعادہ کرتے واضح کیا کہ قومی مکالمے کے نتائج مستقبل کی پالیسی سازی اور مشترکہ اقدامات میں معاون ثابت ہوں گے۔ اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ایف اے او، ڈبلیو ایف پی، ڈبلیو ایچ ایچ، پی آر سی ایس اور آئی ایف آر سی کے تعاون سے منعقد ہوا۔