پنجاب ، آئندہ بجٹ کیلئے اہداف کا تعین، عوامی قوت خرید میں بہتری اوّلین حکومتی ترجیح

لاہور(قاضی ندیم اقبال)حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال 2026-27ءکیلئے بجٹ اہداف کا تعین کرتے ہوئے عوام کی قوت خرید میں بہتری کو اپنی اولین ترجیح قرار دیدیا۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے مختلف شعبہ جات کیلئے ترقیاتی پروگرامز کو حتمی شکل دینے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے، تاکہ مہنگائی کے دباو میں کمی لانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ذرائع کے مطابق مجوزہ بجٹ حکمت عملی میں نہ صرف سرکاری سرمایہ کاری کو بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے بلکہ نجی شعبے کو بھی ترقیاتی منصوبوں میں فعال شمولیت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے تحت لاہور سمیت صوبے بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو اعتماد میں لینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ کاروباری برادری کی مشاورت سے نہ صرف بہتر پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں گی بلکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ ذرائع کے مطابق، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت، سکلز ڈویلپمنٹ، زراعت، صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ محکمہ خزانہ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ حکام نے متعلقہ اداروں اور ماہرین سے تجاویز طلب کر لی ہیں تاکہ بجٹ کو زیادہ جامع، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ذرائع تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کیلئے نئے اسکولوں کے قیام، اساتذہ کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بنیادی مراکز صحت کی بہتری، جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سکلز ڈویلپمنٹ کے حوالے سے حکومت نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے مختلف پروگرامز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے تحت ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کے قیام، ٹیکنیکل تعلیم کے فروغ اور انڈسٹری کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنر مند افرادی قوت نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بنائے گی بلکہ برآمدات میں اضافے کا بھی سبب بنے گی۔مزید برآں، حکومت پنجاب نجی شعبے کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس ماڈل کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کو شامل کیا جائے گا، جس سے نہ صرف حکومتی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی ممکن ہو سکے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں بجٹ سازی ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم اگر حکومت عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کرے اور نجی شعبے کو اعتماد میں لے تو مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔دوسری جانب کاروباری برادری نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے کہ انہیں بجٹ سازی کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔ چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیا جائے تو صنعت و تجارت کے شعبے کو درپیش مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکتا ہے۔ حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایسے اقدامات شامل کیے جائیں گے جو نہ صرف معیشت کو مستحکم کریں بلکہ عام آدمی کو بھی براہ راست ریلیف فراہم کریں۔ اس مقصد کیلئے ٹیکس اصلاحات اور سماجی تحفظ کے پروگرامز کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حکومت پنجاب آئندہ مالی سال کے بجٹ کو ایک جامع، متوازن اور عوام دوست دستاویز بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ نجی شعبے کی شمولیت، مختلف شعبوں سے تجاویز کا حصول اور ترقیاتی منصوبوں کی مو¿ثر منصوبہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت معاشی بہتری کیلئے ایک مربوط حکمت عملی اپنانا چاہتی ہے۔