لاہور (میاں ذیشان) بورڈ آف ریونیو پنجاب کے شعبہ آڈٹ، انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ کا ضلع ملتان کے سب رجسٹرار دفاتر کا خصوصی آڈٹ، صوبائی و وفاقی ٹیکسز کی مد میںمجموعی طور پر 12 کروڑ روپے سے زائدکا مالیاتی سکینڈل بے نقاب، بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کمشنر ملتان کو لکھے جانیوالے مراسلہ کے باوجود سینکڑوں دستاویزات آڈٹ ٹیم کو فراہم ہی نہیںکی گئیں۔ دیہی علاقہ جات میںاراضی کو مبینہ طور ملکیتی رئیل سٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ ظاہر کر کے سٹامپ ڈیوٹی 3 فیصد کے بجائے 1 فیصد وصول کی گئی اور حکومتی خزانے کو لاکھوں روپے کے ریونیو سے محروم کیا گیا۔ 2932 دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران 8 کروڑ 43 لاکھ سے زائد کی خرد برد جعلی رسدیں چسپاں کر کے کی گئی جو کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ تفصیلات کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ممبر آڈٹ، انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ انجینئر امجد شعیب خان ترین نے بدعنوانی کے خلاف جرات مندانہ اقدام اٹھاتے ہوئے ایک بڑے مالیاتی سکینڈل کو بے نقاب کر دیا۔ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کئے گئے خصوصی آڈٹ میں تحصیل سٹی ملتان کے سب رجسٹرار اور تحصیل صدر ملتان کے سرکل ایم آر کے دفتر میں سنگین مالی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق آصف حیات سب رجسٹرار سٹی ملتان کی عرصہ چار ماہ مارچ تا اگست 2025 تک کی تعیناتی کے دوران سب رجسٹرار سٹی ملتان کے دفتر میں 3250 دستاویزات رجسٹر کی گئیں تاہم ان میں سے بیشتر میں چالان 32-A اور انکم ٹیکس کی مد میں سی پی آرز سیکشن 236-C اور 236-K سرے سے منسلک ہی نہیں تھے۔ آڈٹ ٹیم نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے تیار کردہ ای سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے 2889 دستاویزات کی آن لائن جانچ پڑتال کی جس کے نتیجے میں 8 کروڑ 16 لاکھ 99 ہزار 853 روپے کی خوردبرد جعلی سی پی آرز کے ذریعے کی گئی۔ جو کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ رہی ہے اور شفافیت اور ڈیجیٹائزڈ کے بلند و بانگ دعوﺅں کی بھی نفی کر ظاہر کرتی ہے۔ جبکہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کمشنر ملتان کو لکھے گئے مراسلہ کے برعکس قلیل مدتی آڈٹ میں 361 دستاویزات آڈٹ ٹیم کو جانچ پڑتال کیلئے فراہم ہی نہیں کی گئی ہیں۔ اسی طرح 336 دستاویزات میں ایف بی آر ٹیکسز مقررہ شرح کے مطابق وصول نہیں کیے گئے، جس کے باعث 3 کروڑ 38 لاکھ 97 ہزار 403 روپے کی کمی سامنے آئی جبکہ مزید 16 کیسوں میں 12 لاکھ 28 ہزار 78 روپے کی اضافی بے ضابطگی بھی سامنے آئی۔ دیہی علاقوں میں 5 کیسوں میں سٹامپ ڈیوٹی 3 فیصد کے بجائے 1 فیصد وصول کر کے قومی خزانے کو 1 لاکھ 55 ہزار 17 روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔دوسری جانب شہلا طاہر ریونیو افسر کے زیر نگرانی تحصیل صدر کے سرکل ایم آر ٹو میں بھی صورتحال تشویشناک رہی، جہاں ریونیو افسر کی 5 ماہ کی تعیناتی کے دوران 117 رجسٹرڈ دستاویزات کی تصدیق عمل میںلائی گئی جن میں سے صرف 97 کا ریکارڈ فراہم کیا گیا جبکہ 20 کا ریکارڈ غائب ہے۔ 52 دیہی سیل ڈیڈز میں اسٹامپ ڈیوٹی میں رد و بدل کے ذریعے 12 لاکھ 24 ہزار 505 روپے کا نقصان کیا گیا جبکہ 43 کیسوں میں 26 لاکھ 5 ہزار 786 روپے کی سی پی آرز جعلی ثابت ہوئیں جو دیگر اضلاع سے متعلق ہیں۔ چیف سٹیمپ انسپکٹر بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے لکھے جانیوالے مراسلہ میں کمشنر ملتان کو مجموعی طور پر پر 12 کروڑ 8 لاکھ 10 ہزار 642 روپے کی ریکوری یقینی بنانے جبکہ متعلقہ افسران کی جانب سے ریکارڈ چھپانے، جعلی دستاویزات کے استعمال، ٹیکس چوری اور حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے پر سرکاری ملازمین و افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) چیف سٹیمپ انسپکٹر بورڈ آف ریونیو پنجاب محمد جنید کی جانب سے چھ ماہ قبل کمشنر ملتان کو مراسلہ جاری کیا گیا تھا جس میںسفارش کی گئی تھی کہ حکومتی خزانے میں جمع ہونیوالی فیسوں کو ریکوری کے حوالے اقدامات اور کرپٹ سرکاری ہرکاروں کے خلاف سزا و جزا کے عملی اقدامات کی سفارش کی گئی تھی۔ چھ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود خوردبرد ہونیوالی سرکاری فیسوں کی ریکوری کی وضاحت کی جائے یا دوبارہ یاد دہانی کے حوالے سے مراسلہ جات کمشنر ملتان کو لکھے گئے ہیں یا پھر چیف سٹیمپ انسپکٹر صرف کاغذی کارروائیوں پوری کر کے خود کو اپنی ذمہ داریوںسے بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا موقف جاننے کیلئے بارہا رابطہ کیا گیا ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے۔ چیف سٹیمپ انسپکٹر محمد جنید اپنا موقف پیش کرنا چاہیں توادارہ ہذا میں ان کے موقف کو من و عن شائع کیا جائیگا۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا قیام زمینوں کی منتقلی، ریونیو کلیکشن میں بہتری، بدعنوانی کا خاتمہ اور پنجاب بھر کی زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنے کے لئے عمل میں لایا گیا تھا۔ پلرا نے اس حوالے سے سوفٹ وئیر متعارف کروایا گیا تھاجس میں ٹیکسیز کی مد میںآن لائن تصدیق کی سہولت موجود تھی۔ ملتان سکینڈل نے جعلی رسیدوں کی تصدیق پلرا سسٹم کے ذریعے باآسانی ہونے پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اکرام الحق سے ان کا موقف جاننے کے لئے الیکٹرانک میسج کے ذریعے رابطہ کیا گیا لیکن میسجز پڑھ لینے کے باوجود اس حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہ کی گئی ہے۔ ڈی جی پلرا اس حوالے سے اگر اپنا موقف پیش کرنا چاہیں تو روزنامہ مشرق کے صفحات حاضر ہیں۔
بورڈ آف ریونیو پنجاب، ضلع ملتان میں صوبائی، وفاقی ٹیکسز کی مد میں 12 کروڑ سے زائد کرپشن بے نقاب


















