نئی تقرریوں کیلئے کنٹریکٹ ماڈل ترجیح،پنجاب حکومت چیلنجز اور زمینی حقائق کے پیش نظر بچت پالیسی پر گامزن

لاہور(قاضی ندیم اقبال)سرکاری اداروں کی افرادی قوت کی ضروریات، مالی وسائل اور انتظامی تقاضے مختلف ہونے کے سبب تمام کنٹریکٹ ملازمین کو یکساں طور پر مستقل کرنا ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب تک ایسی کوئی جامع نئی پالیسی سامنے نہیں آئی جس کے تحت تمام کنٹریکٹ ملازمین کو ایک ساتھ ریگولر کرنے کا فیصلہ ہو سکے۔ پنجاب حکومت زمینی حقائق اور مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے بچت پالیسی پر گامزن ہے، جس کی روشنی میں حکومت کی موجودہ حکمت عملی میں نئی تقرریوں کیلئے کنٹریکٹ ماڈل کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ پہلے سے کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کا معاملہ مخصوص قوانین، پالیسیوں اور متعلقہ محکموں کے فیصلوں سے مشروط رہے گا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے قواعد کے مطابق کنٹریکٹ اپوائنمنٹ پالیسی 2004ءگزشتہ دو دہائیوں سے سرکاری بھرتیوں کی بنیاد رہی ہے، جس میں وقتاً فوقتاً ترامیم بھی کی جاتی رہی ہیں۔ جولائی 2025 میں بھی اس پالیسی میں مزید ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اب بھی متعدد آسامیوں پر کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرری کو انتظامی ضرورت سمجھتی اور اولین ترجیح کے طور پر رکھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق 2004 میں CARC قائم کی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا تھا کہ کون سی سرکاری اسامیاں مستقل بنیادوں پر بھری جائیں اور کن آسامیوں پر کنٹریکٹ ملازمین تعینات کئے جائیں۔ اس کمیٹی میں ایس اینڈ جی اے ڈی، پنجاب پبلک سروس کمیشن اور محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام شامل ہیں، جو مختلف محکموں کی سفارشات کا جائزہ لیتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت ماضی میں مختلف ادوار میں کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے بھی متعدد نوٹیفکیشنز جاری کر چکی ہے۔ ذرائع ریگولیشن ونگ کے مطابق 2009، 2010، 2012 اور 2013 میں بی ایس-1 سے بی ایس-15 اور بعد ازاں بی ایس-16 اور اس سے اوپر کے بعض کنٹریکٹ ملازمین کو مخصوص شرائط کے تحت ریگولر کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ ان فیصلوں کا اطلاق تمام ملازمین پر نہیں بلکہ صرف ان زمروں پر ہوا، جو مقررہ معیار اور اہلیت پر پورا اترتے تھے۔محکمہ خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ جن ملازمین کو مستقل کیا گیا، ان کیلئے الگ باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا تھا، جس کے تحت ان کی کنٹریکٹ پوسٹ ختم کرکے مساوی مستقل آسامی پیدا کی جاتی تھی، جبکہ ملازمین کو ریگولر سروس اسٹرکچر میں شامل کیا جاتا تھا۔ تاہم حالیہ عرصے اور بالخصوص گذشتہ سالوں میں جاری ہونے والے متعدد تقرر ناموں میں واضح شرط شامل کی گئی ، کہ کنٹریکٹ تقرری سے ملازم کو مستقل ملازمت کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی صرف کنٹریکٹ کی بنیاد پر ریگولرائزیشن کا دعویٰ کیا جا سکے گا۔ یہی شرط حالیہ بھرتیوں میں بھی دہرائی جا رہی ہے، جس سے واضع ہوتا ہے کہ حکومت نئی کنٹریکٹ تقرریوں کو مستقل ملازمت کا خودکار راستہ نہیں سمجھتی۔ذرائع کے مطابق مختلف محکمے اپنے اپنے ریکارڈ کے مطابق کنٹریکٹ ملازمین رکھتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومت بچت پالیسی پر گامزن ہے اسی کی روشنی میں کنٹریکٹ پالیسی کے ذریعے حکومت ایک جانب مستقل مالی بوجھ، پنشن اور دیگر طویل المدتی واجبات کو محدود رکھنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری جانب محکموں کی فوری افرادی قوت کی ضروریات بھی پوری کی جا رہی ہیں۔ تاہم ملازمین کی نمائندہ تنظیمیں مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ کئی کئی برس سے خدمات انجام دینے والے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے تاکہ انہیں ملازمت کا تحفظ، ترقی کے مواقع اور دیگر سروس فوائد حاصل ہو سکیں۔سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے معتبر ذرائع کے مطابق کسی بھی کنٹریکٹ ملازم کی مستقلی کا فیصلہ محض مدتِ ملازمت کی بنیاد پر نہیں بلکہ متعلقہ قانون، حکومتی پالیسی، عدالتی فیصلوں اور دستیاب آسامیوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے تمام کنٹریکٹ ملازمین کی یکساں طور پر ریگولرائزیشن کا کوئی خودکار قانونی نظام موجود نہیں۔ذرائع نے دعوی کیا کہ پنجاب حکومت آئندہ بھی متعدد شعبوں میں کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے، جبکہ پہلے سے موجود کنٹریکٹ ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ ہر کیس کی بنیاد پر، متعلقہ قوانین، سرکاری نوٹیفکیشنز اور حکومتی منظوری کے مطابق کیا جائے گا۔ اس وقت حکومت کی جانب سے ایسا کوئی عمومی اعلان سامنے نہیں آیا جس کے تحت تمام کنٹریکٹ ملازمین کو بلاامتیاز مستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہو۔