قیدیوں کو مفید شہری بنانے کیلئے تاریخی اقدامات شروع کردئیے :آئی جی جیل خانہ جات

لاہور (مرزا ندیم بیگ) محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے قیدیوں کی بحالی اور انہیں دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلئے ایک منفرد اور تاریخ ساز اقدام شروع کر دیا ہے۔ پہلی مرتبہ ایسا جامع نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت جیل سے رہا ہونے والے ہنر مند اور مستحق قیدیوں کو باعزت روزگار کے آغاز کیلئے دو لاکھ روپے تک قرض حسنہ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ رہائی کے فوری بعد اپنا کاروبار یا ہنر سے وابستہ روزگار شروع کر سکیں،آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کے مطابق ماضی میں قیدی رہائی کے بعد معاشی مشکلات، بے روزگاری اور وسائل کی کمی کے باعث دوبارہ جرائم کی طرف مائل ہو جاتے تھے، تاہم اب حکومت پنجاب نے اس مسئلے کا مستقل حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیلوں میں قیدیوں کو مختلف فنی اور تکنیکی کورسز کرائے جا رہے ہیں تاکہ وہ کسی نہ کسی ہنر میں مہارت حاصل کر کے معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں، جبکہ اب ان ہنر مند قیدیوں کو اپنا کام شروع کرنے کیلئے سرمایہ بھی فراہم کیا جائے گا،آئی جی جیل خانہ جات نے بتایا کہ جیل سے رہائی پانے والے مستحق ہنر مند قیدی کو جیل کی ڈیوڑھی پر ہی قرضہ پروگرام سے متعلق مکمل رہنمائی اور سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ اسے مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ اس مقصد کیلئے خصوصی کاونٹر اور رہنمائی کا نظام وضع کیا گیا ہے جہاں سے رہائی پانے والا قیدی اپنی درخواست مکمل کر سکے گا اور قرض کے حصول کا عمل شروع ہو جائے گا،میاں سالک جلال کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نے جیل اصلاحات کے تحت قیدیوں کی فلاح و بہبود کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ جیلوں میں سلائی، الیکٹریشن، پلمبنگ، بڑھئی گیری، ویلڈنگ، کمپیوٹر، دستکاری اور دیگر فنی کورسز کا دائرہ کار وسیع کیا گیا تاکہ سزا مکمل کرنے کے بعد قیدی معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے اپنی محنت سے روزگار کما سکیں،آئی جی نے کہا کہ موجودہ دور میں کسی بھی کاروبار یا ہنر کو شروع کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ ہوتا ہے۔ اکثر افراد ہنر ہونے کے باوجود صرف مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنا کام شروع نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ہنر مند قیدیوں کو دو لاکھ روپے تک قرضِ حسنہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ رہائی کے بعد بلا تاخیر اپنا روزگار شروع کر سکیں۔آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف سابق قیدیوں کی مالی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ ان کی معاشرے میں باعزت واپسی بھی ممکن ہو سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی شخص کو روزگار کا مناسب ذریعہ میسر آ جائے تو اس کے دوبارہ جرائم کی دنیا میں جانے کے امکانات بھی نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد سزا مکمل کرنے والے افراد کو نئی زندگی، نئی امید اور خود انحصاری کا موقع فراہم کرنا ہے، مزید کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی خواہش ہے کہ جیل سے رہا ہونے والا ہر شخص اپنے بچوں اور اہل خانہ کیلئے عزت کی روزی کمائے اور معاشرے کا ذمہ دار شہری بنے۔ اگر سابق قیدیوں کو ہنر کے ساتھ مالی معاونت بھی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان کا مستقبل بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ "چیف منسٹر نیا آغاز پروگرام" کے تحت شروع کیا جا رہا ہے، جس میں مستحق سابق قیدیوں کو قرضِ حسنہ کے ذریعے اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ ماہرین کے نزدیک یہ اقدام پنجاب کی جیل اصلاحات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں جدید اصلاحی نظام کی بنیاد بھی یہی تصور ہے کہ سزا مکمل کرنے والے افراد کو معاشرے میں دوبارہ باعزت مقام دلایا جائے تاکہ جرائم کی شرح میں کمی لائی جا سکے،جیل حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے جاری رہا تو نہ صرف سابق قیدیوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی بلکہ معاشرے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، غربت کم کرنے اور جرائم کے دوبارہ ارتکاب کی شرح میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب اس منصوبے کو اصلاحات کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھ رہا ہے۔