غیر ملکی خواتین زیادتی کیس، ملزمان کا ڈی این اے میچ

لاہور (کرائم رپورٹر) غیر ملکی خواتین سے زیادتی کیس کے ملزمان کا ڈی این اے میچ ہو گیا، عدالت نے غیر ملکی خواتین سے زیادتی کے کیس میں تینوں ملزمان کو 5روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ غیر ملکی خواتین کے اغواءزیادتی کیس میں ان کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کا مقدمہ درج بھی کرلیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تینوں ملزمان رضوان، نواز اور ناصر کو کینٹ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس کی استدعا پر ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا۔قبل ازیں، غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔تفتیشی ذرائع کے مطابق غیر ملکی خواتین سے زیادتی کرنے والے ملزمان کا ڈی این اے میچ ہوگیا ہے۔ زیادتی کرنے والے ملزمان میں نواز بھی شامل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ملزم نواز نے سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور ملزم نواز کے اکسانے پر دیگر ملزمان نے بھی زیادتی کی۔تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈی این اے رپورٹ تفتیش کا حصہ بنا دی گئی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب غیر ملکی خواتین کے اغواءزیادتی کیس میں ان کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ۔پولیس کے مطابق غیر ملکی خواتین کے گاڑی سے فرار سے قبل ٹریفک حادثے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ جنوبی چھاﺅنی پولیس نے شہری عثمان کے بیان پر درج کیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس مبینہ طور پر ایک سینئر حکومتی وزیر سے تعلق رکھنے والے ملزم کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کر رہی ہے جیسا دوسرے ملزمان کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کا کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)کا نہیں بنتا، اس لیے اس کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے اندر قائم ریپ سیل اس مقدمے کا جائزہ لے رہا ہے، اسی وجہ سے سی سی ڈی اس کیس میں شامل نہیں ہے۔دریں اثناءغیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں نامزد ملزم وحید طاہر عرف باس کا کرائم ریکارڈ سامنے آگیا۔وحید طاہر عرف باس کے خلاف لاہور میں کئی مقدمات درج ہیں، جو قتل، چیک ڈس آنر سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیے گئے۔ تھانہ باٹا پور، اسلام پورہ، جوہر ٹاو¿ن، گارڈن ٹاو¿ن، کاہنہ اور ڈیفنس اے میں مقدمات درج کیے گئے۔کرائم ریکارڈ کے مطابق ملزم تین مقدمات کا مدعی اور تین میں گواہ ہے، ملزم کے خلاف پہلا مقدمہ 2020 اور آخری 2023 میں درج ہوا۔